پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 548

پُرانی تحریریں — Page 57

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶ ک پرانی تحریریں زمین و آسمان ہے کیونکہ مولود کا والد سے مختلف سجاؤ نہیں ہوسکتا ہے۔ جو کام منظمندی کا ہے جب ہم پر ثابت ہو جائے گا کہ عقلمندی کا ہے تو پھر اس بات کی حاجت نہ رہے گی کہ پھر ہم اس کے صانع کو دیکھیں دلیل اس پر یہ ہے کہ جس فعل میں صریح معلوم ہو کہ اس کے فاعل نے دیدہ و دانستہ اس کے بنانے سے ایک بات کا قصد کیا ہے اس فعل کو کوئی بد نادان اتفاقی طور پر نہیں مانے گا بلکہ یہی سمجھے گا کہ ضرور اس کا ایک فاعل ہے مثلاً اگر سیاہی کاغذ پر یونہی پڑ جائے تو اس میں شک ہو گا کہ کس طرح پڑ گئی لیکن اگر ورق دو ورق حرف لکھے جائیں اور حرف بھی وہ حرف کہ جن میں کوئی مقصد کا تب کا معلوم ہوتا ہو تو اس کو کوئی عقلمند نہیں کہے گا که خود بخود لکھے گئے ۔ پھر دہریہ سے یہ سوال ہے کہ تم کو جوان اور بوڑھا کون کرتا ہے۔ یہ کس چیز کی تاثیر ہے۔ پھر دہریہ سے یہ سوال ہے کہ سورج اور چاند اور زمین اور ہوا جو تمہاری خدمت میں مشغول ہیں اور ایک دم تمہاری خدمت سے الگ نہیں ہوتے تم ان کا احسان مانتے ہویا نہیں ۔ اگر تم کہو کہ بغیر شعور کے یہ کام میں لگے ہوئے ہیں تو یہ غلط ہے کیونکہ جو فعل بغیر شعور کے اور بغیر نگرانی دوسرے کے ہوتا ہے وہ بگڑ جاتا ہے اور اگر شعور سے ہو تو تم کو ان کا ممنون ہونا چاہیے۔ پھر دہر یہ سے ہمارا سوال یہ ہے کہ آفتاب کا نکلنا اور بارشوں کا ہونا اتفاقی ہے یا کسی کے تصرف سے۔ اگر اتفاقی ہے تو چاہیے کہ کیوں دنیا نہ رہے اور بہت بارشوں سے یا بہت دھوپوں سے فصل بہار ہو جائے کیونکہ اتفاقی امر میں خطا بھی ہو جاتا ہے اور اگر اسے کسی تصرف سے ہے تو وجود خدا کا ثابت ہوا کیونکہ خدا وہی ہے جو دنیا میں تصرف ہے۔ پھر دہر یہ کہتے ہیں کہ کسی نے خدا کو دیکھا نہیں اگر خدا کا وجود ہوتا تو اس کو کوئی