پُرانی تحریریں — Page 56
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶ی پرانی تحریریں ہے کہ ایک ذات رب العالمین ہے اور نیز اس بات پر اتفاق ہے کہ حقیقت میں صنعت زمین آسمان کی ایک ایسی صنعت ہے کہ بجز صانع کے ہر گز نہیں بن سکتی پس جس بات کو بہت دانا تجویز کریں وہی حق ہوتی ہے۔ سوسیانے ایکومت، مورکھ آپو آپنے۔ دہر یہ کہتے ہیں کہ ہم نے زمین و آسمان کے صانع کو نہیں دیکھا اور صانع ہر ایک چیز کے ہم کو نظر آتے ہیں پھر کس طرح وجود صانع پر یقین کریں اس کا جواب یہ ہے کہ اگر صانع نظر نہ آوے تو مصنوع تو نظر آتا ہے اور اگر شے مصنوع ہے اور نہایت کاریگری سے بنائی گئی ہے مگر اس کا صانع نظر نہیں آتا تو یہ تو ہم ضرور کہیں گے کہ کسی شخص نے اس کو ضرور بنایا ہے بحث تو یہ ہے کہ مصنوع صانع پر دلالت کرتا ہے یا نہیں۔ دہر یہ کہتے ہیں کہ خواہ نہایت ہی عظمندی کا کام ہو اور پرلے درجہ کی کاریگری ان میں پائی جاتی ہوں پھر جب تک ہم صانع نہ دیکھیں گے اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ یہ ان کی شرارت ہے ورنہ صانع کے دیکھنے کی کچھ ضرورت نہیں جو کام عقلمندی کا ہے جب ہم پر ثابت ہو جائے کہ عقلمندی کا ہے تو بلا اختیار ہمارے دل میں بیٹھ جائے گا کہ کسی عاقل نے بنایا ہے۔ زمین و آسمان میں جتنی چیزیں ہیں ہم ان کو بچشم خود دیکھتے ہیں کہ ایک چیز دوسری چیز کی مدد سے بنتی ہے اور ایک چیز دوسری چیز کی مدد سے قائم رہتی ہے بلکہ زمین آسمان کی مدد سے اپنی طاقتیں ظاہر کرتی ہے اس صورت میں یہ سوال دہریہ پر ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کس کی مدد اور آسرا سے پیدا ہوئے ہیں اور اب تک قائم رہے ہوئے ہیں۔ دہر یہ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ زمین و آسمان اپنی شہادت سے قائم ہیں پس ان پر یہ سوال ہوتا ہے کہ سبھاؤ باپ کا بیٹے سے پہچانا جاتا ہے جو کچھ زمین و آسمان میں پیدا ہوتا ہے وہ ان دونوں کا بیٹا ہے اور بغیر آسرے کے ٹھہر نہیں سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہی شہاد