پُرانی تحریریں — Page 55
روحانی خزائن جلد ۲ bry پرانی تحریریں احسن الخالقین ہے اور اسی طرح خدا فاطر السموات والارض ہے جو ان کو عدم سے وجود بخشتا ہے۔ پھر اگر وجود خدا نہ ہوتو دروازہ تمام خیرات کا بند ہو جاتا ہے کیونکہ تمام لوگ اس طرح خیرات کرتے ہیں کہ اس خیرات کے دینے سے ہمارا فائدہ ہے اور کوئی شخص بلالحاظ فائدہ نقصان کے کوئی کام نہیں کر سکتا بلکہ ایسا کام اس کی نظر میں محض عبث ٹھہرتا ہے اسی طرح وجود خدا نہ ماننے والا بدی سے ڈر نہیں سکتا کیونکہ بدی اسی لحاظ سے بدی ہوتی ہے کہ اس کا بد نتیجہ ہے اگر اس کا نتیجہ بد نہ کہا جائے تو پھر ہر گز دل اس کو بد نہیں خیال کر سکتا ۔ پھر اگر بدی کرنے میں کسی کا خوف نہ ہو تو پھر بدی کرنے سے کون مانع ہے اور اگر کہو کہ بادشاہ اور حاکم مانع ہیں ہم کہتے ہیں کہ بادشاہوں اور حاکموں کو کون مانع ہے۔ جو شخص صاحب قدرت ہے اس کو کسی کا خوف ہے علاوہ اس کے حاکم اور بادشاہ ہر وقت حاضر ناظر نہیں ہوتے اور نہ انسان خیال کرتا ہے کہ وہ میرے کاموں کو ہر وقت دیکھتے ہیں۔ اور یہ جو کہتے ہیں کہ ہم زمین و آسمان کے صانع کو نہیں دیکھتے اس واسطے اس پر ایمان نہیں لاتے ۔ یہ ان کی صاف شرارت ہے کیونکہ اگر اس دنیا میں صانع دیکھا جاتا تو پھر یہ دنیا دنی نہ رہتی اور نہ کسی کو نیک کام کرنے میں ثواب ہوتا اس واسطے کہ ثواب اسی وقت تک ہے کہ جب آدمی تقوی اختیار کر کے بحالت پوشیدگی خدا کے اوپر ایمان لاوے اور اگر خدا اپنی ذات کو خود بخود ظاہر کرے تو پھر اس کا ثواب کیا ۔ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالی یعنی یہ کتاب ان متقیوں کے لئے ہدایت ہے کہ خدا پر حالت پوشیدہ ہونے اس کی میں اس پر ایمان لاتے ہیں۔ دوسری دلیل وجود خدا تعالیٰ پر یہ ہے کہ تمام مخلوقات کے خیالات کا اسی پر اتفاق البقرة :٤٣