پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 548

پُرانی تحریریں — Page 44

روحانی خزائن جلد ۲ م م پرانی تحریریں غیر محدود نہیں۔ کلام و نزاع تو اس میں ہے کہ معلومات خارجیہ اسکے جو تعینات وجودیہ سے مقید ہیں اور زمانہ واحد میں پائے جاتے ہیں اور ظروف زمانی اور مکانی میں محصور اور محدود ہیں آیا تعداد ان اشیاء موجودہ محدودہ معینہ کا اس کو معلوم ہے یا نہیں آپ اُس اشیاء موجودہ محدودہ کو غیر موجود اور غیر محدود ثابت کریں تو تب کام بنتا ہے ورنہ علم الہی کہ موجود اور غیر موجود دونوں پر محیط ہے اس کے غیر متناہی ہونے سے کوئی چیز جو تعینات خارجیہ میں مقید ہو غیر متناہی نہیں بن سکتی اور آپ نے خدا کے علم کو خوب غیر محدود بنایا کہ جس سے روحوں کا احاطہ بھی نہ ہو سکا اور شمار بھی معلوم نہ ہوا با وصفیکہ سب موجود تھے کوئی معدوم نہ تھا کیا خوب بات ہے کہ آسمان اور زمین نے تو روحوں کو اپنے پیٹ میں ڈال کر بزبانِ حال اُن کی تعداد بتلائی پھر خدا کو کچھ بھی تعداد معلوم نہ ہوئی۔ یہ عجیب خدا ہے اور اُس کا علم عجیب تر ۔ بھلا میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ خدا کو جو ارواح موجودہ کا علم ہے یہ اُس کے علوم غیر متناہیہ کا جز ہے یا کل ہے۔ اگر گل ہے اس سے لازم آتا ہے کہ خدا کوسوار وحوں کے اور کسی چیز کی خبر نہ ہو اور اس سے بڑھ کر اس کا کوئی عالم نہ ہو ۔ اور اگر جز ہے تو محدود ہو گیا کیونکہ جز کل سے ہمیشہ چھوٹا ہے پس اس سے بھی یہی نتیجہ نکلا کہ ارواح محدود ہیں اور خود یہی حق الامر تھا۔ جس شخص کو خدا نے معرفت کی روشنی بخشی ہو وہ خوب جانتا ہے کہ خدا کے بے انتہا علوم کے دریا زمین سے علم ارواح موجودہ کا اس قدر بھی نسبت نہیں رکھتا کہ جیسے سوئی کو سمندر میں ڈبو کر اس میں کچھ تری باقی رہ جاتی ہے۔ پھر با و اصاحب یہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ اعتراض کرنا بیجا ہے کہ بے انت اور انادی ہونا خدا کی صفت ہے اگر روح بھی بے انت اور انادی ہوں تو خدا کے برابر ہو جائیں گے کیونکہ کسی جزوی مشارکت سے مساوات لازم نہیں آتی جیسے آدمی بھی آنکھ سے دیکھتا ہے اور حیوان بھی۔ پر دونوں مساوی نہیں ہو سکتے“۔ یہ دلیل باوا صاحب کی تغلیط اور تسقيط ہے۔ ورنہ کون عاقل اس بات کو نہیں جانتا کہ جو صفات ذات الہی میں پائی جاتی ہیں وہ سب اس ذات بے مثل سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” ہے تو ہونا چاہیے۔(ناشر)