پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 548

پُرانی تحریریں — Page 45

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۵ پرانی تحریریں کے خصائص ہیں کوئی چیز ان میں شریک سہیم ذات باری کے نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر ہوسکتی ہے (۳۶) تو پھر سب صفات اس کی میں شراکت غیر کی جائز ہوگی اور جب سب صفات میں شراکت جائز ہوئی تو ایک اور خدا پیدا ہو گیا بھلا اس بات کا آپ کے پاس کیا جواب ہے کہ جو خدا کی صفات قدیمہ میں سے جو انا دی اور بے انت ہونے کی صفت ہے وہ تو اس کے غیر میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن دوسری صفات اُس کی اس سے مخصوص ہیں۔ ذرہ آپ خیال کر کے سوچیں کہ کیا خدا کی تمام صفات یکساں ہیں یا متقارب ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ اگر ایک صفت میں صفات مخصوصہ اس کی سے اشتراک بالغیر جائز نہ ہوگا اور اگر نہیں تو سب میں نہیں اور یہ جو آپ نے نظیر دی جو حیوانات مثل انسان کے آنکھ سے دیکھتے ہیں لیکن اس رویت سے انسان نہیں ہوسکتا نہ اس کے مساوی۔ یہ نظیر آپ کی بے محل ہے اگر آپ ذرہ بھی غور کرتے تو ایسی نظیر کبھی نہ دیتے ۔ حضرت سلامت یہ کون کہتا ہے کہ ممکنات کو عوارض خار جیہ میں باہم مشارکت اور مجانست نہیں۔ امر متنازعہ فیہ تو یہ ہے کہ خصائص الہیہ میں کسی غیر اللہ کو بھی اشتراک ہے یا صفات اسکے اس کی ذات سے مخصوص ہیں ۔ آپ مدعی اس امر متنازع کے ہیں اور نظیر ممکنات کے پیش کرتے ہیں جو خارج از مبحث ہے۔ آپ امر متنازعہ کی کوئی نظیر دیں تب حجت تمام ہو ورنہ ممکنات کے نشارک تجانس سے یہ حجت تمام نہیں ہوتی۔ نہ ذات باری کے خصائص کو ممکنات کے عوارض پر قیاس کرنا طریق دانشوری ہے۔ علاوہ اس کے جو ممکنات میں بھی خصائص ہیں وہ بھی ان کے ذوات سے مخصوص ہیں جیسا کہ انسان کی حد تمام یہ ہے جو حیوانِ ناطق ہے اور ناطق ہونا انسان کے خصائص ذاتی میں سے اور اس کا فصل اور ممیز عن الغیر ہے یہ فصل اس کا نہیں کہ ضرور بینا بھی ہو اور آنکھ سے بھی دیکھتا ہو کیونکہ اگر انسان اندھا بھی ہو جائے تب بھی انسان ہے بلکہ انسان کے خصائص ذاتیہ سے وہ امر ہے جو بعد مفارقت روح کے بدن سے اسکے نفس میں بنا رہتا ہے ہاں یہ بات بیچ ہے جو ممکنات میں اس وجہ سے جو وہ سب ترکیب عصری میں متحد ہیں بعض حالات خارج از حقیقت تامہ ہیں ایک دوسرے کی مشارکت بھی ہوتے ہیں جیسے انسان