پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 548

پُرانی تحریریں — Page 43

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۳ پرانی تحریریں کیونکہ ہر عاقل جانتا ہے کہ جس چیز کا اندازہ تخمینی کسی پیمانہ کے ذریعہ سے معلوم ہو چکا تو پھر ضرور عقل یہی تجویز کرے گی کہ جب اس انداز ہ معلومہ میں سے نکالا جاوے تو بقدر تعداد خارج شدہ کے اصلی اندازہ میں کمی ہو جائے گی۔ بھلا یہ کیا بات ہے کہ جب مکتی شدہ سے ایک فوج کثیر مکتی شدہ ارواح میں داخل ہو جائے تو نہ وہ کچھ کم ہوں اور نہ یہ کچھ زیادہ ہوں حالانکہ وہ دونوں محدود ہیں اور ظروف مکانی اور زمانی میں محصور۔ اور جو یہ با واصاحب فرماتے ہیں کہ تعداد روحوں کی ہم کو بھی معلوم ہونی چاہیے۔ تب قاعدہ جمع تفریق کا ان پر صادق آوے گا۔ یہ قول باوا صاحب کا بھی قابل ملاحظہ ناظرین ہے ورنہ صاف ظاہر ہے کہ جمع بھی خدا کی اور تفریق بھی وہی کرتا ہے اور اس کو ارواح موجودہ کے تمام افراد معلوم ہیں اور فرد فرد اس کے زیر نظر ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ جب ایک روح نکل کر مکتی یا بوں میں جاوے گا تو پر میشور کو معلوم ہے کہ یہ فرداس جماعت میں سے کم ہو گیا اور اس جماعت میں سے باعث داخل ہونے اس کے ایک فرد کے زیادتی ہوئی۔ یہ کیا بات ہے کہ اس داخل خارج سے وہی پہلی صورت بنی رہی نہ مکتی یاب کچھ زیادہ ہوں اور نہ وہ ارواح کہ جن سے کچھ روح نکل گئی بقدر نکلنے کے کم ہو جائیں ۔ اور نیز ہم کو بھی کوئی بُر بان منطقی مانع اس بات کی نہیں کہ ہم اس امر متیقن متحقق پر رائے نہ لگا سکیں کہ جن چیزوں کا اندازہ بذریعہ ظروف مکانی اور زمانی کے ہم کو معلوم ہو چکا ہے وہ دخول خروج سے قابل زیادت اور کمی ہیں مثلاً ایک ذخیرہ کسی قد رغلہ کا کسی کو ٹھے میں بھرا ہوا ہے اور لوگ اس سے نکال کر لئے جاتے ہیں سو گو ہم کو اُس ذخیرہ کا وزن معلوم نہیں لیکن ہم (۳۵) بنظر محدود ہونے اس کے کے رائے دے سکتے ہیں کہ جیسا نکالا جائے گا کم ہوتا جائے گا۔ اور یہ جو آپ نے تحریر فرمایا کہ خدا کا علم غیر محدود ہے اور روح بھی غیر محدود ہیں اسی واسطے خدا کو روحوں کی تعداد معلوم نہیں۔ یہ آپکی تقریر بے موقع ہے۔ جناب من یہ کون کہتا ہے جو خدا کا علم سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” سے “ زائد ہے۔(ناشر)