پُرانی تحریریں — Page 37
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۷ پرانی تحریریں قیاس کرنا خیال فاسد ہے کیونکہ دوسرا خدا بنانے میں وہ صفت از لی پر میشر کی جو واحد لا شریک ہونا ہے نابود ہو جائے گی لیکن پیدائش ارواح میں کسی صفت واجب الوجود کا ازالہ نہیں بلکہ نا پید کرنے میں ازالہ ہے کیونکہ اس سے مفت قدرت کی جو پر میشر میں بالا تفاق تسلیم ہو چکی ہے زاویہ اختفا میں رہے گی اور بپایہ ثبوت نہیں پہنچے گی ۔ اس لئے کہ جب پر میشر نے خود ایجاد اپنے سے بلا توسل اسباب کے کوئی چیز محض قدرت کا ملہ اپنی سے پیدا ہی نہیں کی تو ہم کو کہاں سے معلوم ہو کہ اس میں ذاتی قدرت بھی ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ اس میں کچھ ذاتی قدرت نہیں تو اس اعتقاد سے وہ پر ادھین یعنی محتاج بالغیر ٹھہرے گا۔ اور یہ یہ ہداہت عقل باطل ہے ۔ غرض پر میشر کا خالق ارواح ہونا تو ایسا ضروری امر ہے جو بغیر تجویز مخلوقیت ارواح کے سب کارخانہ خدائی کا بگڑ جاتا ہے لیکن دوسرا خدا پیدا کرنا صفت وحدت ذاتی کے برخلاف ہے۔ پھر کس طرح پر میشر ایسے امر کی طرف متوجہ ہو کہ جس سے اس کی صفت قدیمہ کا بطلان لا زم آوے۔ اور نیز اس صورت میں جو روح غیر مخلوق اور بے انت مانے جائیں۔ کل ارواح صفت انا دی اور غیر محدود ہونے میں خدا سے (۳۰) شریک ہو جائیں گی۔ اور علاوہ اس کے پر میشر بھی اپنی صفت قدیم سے جو پیدا کرنا بلا اسباب ہے محروم رہے گا اور یہ ماننا پڑے گا کہ پر میشر کو صرف روحوں پر جمعدار ی ہی جمعداری ہے اُن کا خالق اور واجب الوجود نہیں۔ پھر بعد اس کے باوا صاحب اسی اپنے جواب میں روحوں کے انتہا ہونے کا جھگڑا لے بیٹھے ہیں جس کو ہم پہلے اس سے ۹ اور ۱۶ فروری سفیر ہند میں ۱۴ دلائل پختہ سے رڈ کر چکے ہیں لیکن باوا صاحب اب تک انکار کئے جاتے ہیں ۔ پس ان پر واضح رہے کہ یوں تو انکار کرنا اور نہ ماننا سہل بات ہے اور ہر ایک کو اختیار ہے کہ جس بات پر چاہے رہے پر ہم تو تب جانتے کہ آپ کسی دلیل ہماری کو رڈ کر کے