پُرانی تحریریں — Page 36
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۶ پرانی تحریریں ہرگز یہ شرط نہیں کہ ضرور انسان کی سمجھ میں آجایا کرے۔ دنیا میں اس قسم کے ہزار ہا نمونے موجود ہیں کہ قدرت مدر کہ انسان کی اُن کی کنہ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی اور علاوہ اس کے ایک امر کا عقل میں نہ آنا اور چیز ہے اور اس کا محال ثابت ہونا اور چیز ۔ عدم ثبوت اس بات کا کہ خدا نے کس طرح روحوں کو بنا لیا اس بات کو ثابت نہیں کر سکتا کہ خدا سے روح نہیں بن سکتے تھے کیونکہ عدم علم سے عدم کے لازم نہیں آتا کیا ممکن نہیں جو ایک کام خدا کی قدرت کے تحت داخل تو ہو لیکن عقل ناقص ہماری اس کے اسرار تک نہ پہنچ سکے؟ بلکہ ۲۹ قدرت تو حقیقت میں اسی بات کا نام ہے جو داغ احتیاج اسباب سے منزہ اور پاک اور ادراک انسانی سے برتر ہو ۔ اول خدا کو قادر کہنا اور پھر یہ زبان پر لانا کہ اس کی قدرت اسباب مادی سے تجاوز نہیں کرتی حقیقت میں اپنی بات کو آپ رڈ کرنا ہے۔ کیونکہ اگر وہ فى حد ذاتہ قادر ہے تو پھر کسی سہارے اور آسرے کا محتاج ہونا کیا معنے رکھتا ہے۔ کیا آپ کی پتکوں میں قادر اور سرپ شکتی مان اسی کو کہتے ہیں جو بغیر توسل اسباب کے کارخانہ قدرت اُس کی کا بند رہے اور براہ اس کے حکم سے کچھ بھی نہ ہو سکے شاید آپ کے ہاں لکھا ہوگا مگر ہم لوگ تو ایسے کمزور کو خدا نہیں جانتے ہمارا تو وہ قادر خدا ہے کہ جس کی یہ صفت ہے کہ جو چاہا سو ہو گیا اور جو چاہے گا سو ہو گا۔ پھر با وا صاحب اپنے جواب میں مجھ کو فرماتے ہیں کہ جس طرح تم نے یہ مان لیا کہ خدا دوسرا خدا بنا نہیں سکتا اسی طرح یہ بھی ماننا چاہیے کہ خدا روح پیدا نہیں کر سکتا۔ اس فہم اور ایسے سوال سے اگر میں تعجب نہ کروں تو کیا کروں ۔ صاحب من میں تو اس وہم کا کئی دفعہ آپ کو جواب دے چکا اب میں بار بار کہاں تک لکھوں ۔ میں حیران ہوں کہ آپ کو یہ تین فرق کیوں سمجھ میں نہیں آتا اور کیوں دل پر سے یہ حجاب نہیں اُٹھتا کہ جو روحوں کے پیدا کرنے کو دوسرے خدا کی پیدائش پر