پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 548

پُرانی تحریریں — Page 30

روحانی خزائن جلد ۲ پرانی تحریریں مکرمی جناب مرزا صاحب آپ کا عنایت نامہ مرقومہ پانچویں ماہ حال مجھے ملا۔ نہایت افسوس ہے کہ میں نے آپ کے الہام کے بارے میں جو کچھ بطور جواب لکھا تھا اس سے آپ تشفی حاصل نہ کر سکے۔ میرا افسوس اور بھی زیادہ بڑھتا جاتا ہے کہ جب میں دیکھتا ہوں کہ آپ نے میرے جواب کے عدم تسلیم کی نسبت کوئی صاف اور معقول وجہ بھی تحریر نہیں فرمائی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس کے پڑھنے اور سمجھنے میں غور اور فکر کو دخل نہیں دیا۔ پھر آپ کے اس عنایت نامہ میں ایک اور لطف یہ موجود ہے کہ آپ ایک جگہ پر قائم رہتے معلوم نہیں ہوتے ۔ پہلے آپ نے الہام کی ضرورت اس دلیل کے ساتھ قائم کی کہ چونکہ انسان کی عقل حقیت کے معلوم کرنے میں عاجز ہے اور وہ اپنی تحقیقات میں خطا کرتی ہے۔ پس ضرور ہے کہ انسان خدا کی طرف سے الہام پاوے۔ میں نے جب آپ کی اس ضرورت کو فرضی ثابت کر دیا اور دکھلا دیا کہ خدا کی حکمت اس ضرورت کو تسلیم نہیں کرتی ہے تو آپ نے پہلے مقام کو چھوڑ کر اب دوسری طرف کا (۲۳) راستہ لیا۔ اور بجائے ہماری تحریر کے تسلیم کرنے یا بشرط اعتراض کسی معقول حجت کے پیش کرنے کے اب اُس سلسلہ کو نجات کے مسئلہ کے ساتھ آلپیٹا یعنی اصل بحث کو جو الہام کی اصلیت پر تھی اُسے چھوڑ کر نجات کے مسئلہ کو لے بیٹھے اور اب اس نئے قضیہ کے ساتھ ایک نئی بحث کے اصولوں کو قائم کرنے لگے۔ پھر اس پر ایک طرفہ یہ ہے کہ آپ اخیر خط میں لکھتے ہیں کہ اگر الہام کی حقیت میں جناب کو ہنوز کچھ تامل ہے تو بغرض قائم کرنے ایک مسلک بحث شقوق ثلاثہ متذکرہ بالا میں سے کسی ایک شق کو اختیار کیجئے اور پھر اس کا ثبوت دیجئے کیونکہ جب میں ضرورت الہام پر حجت قائم کر چکا تو اب از روئے قانون مناظرہ کے آپ کا یہی منصب ہے جو آپ کسی حیلہ قانونی سے اُس حجت کو توڑ دیں ۔ گویا یک نشد دوشد۔ آپ نے ضرورت الہام پر جو حجت قائم کی تھی وہ تو