پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 548

پُرانی تحریریں — Page 31

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۱ پرانی تحریریں جناب من میں ایک دفعہ تو ڑ چکا اور اُس فرضی ضرورت پر جو عمارت الہام کی آپ نے قائم کی تھی اسے بے بنیاد ٹھہرا چکا مگر افسوس ہے کہ ایک عرصہ دراز کی عادت کے باعث اس کی تصویر ہنوز آپ کی نظروں میں سمائی ہوئی ہے اور وہ عادت با وجود اس کے کہ آپ کو اس بحث سے صرف اظہار حق منظور ہے مگر پھر آپ کو حقیقت کے پاس پہنچنے میں سدراہ ہے۔ تحقیق حق اُس وقت تک اپنا قدم نہیں جما سکتی ہے جب تک کہ ایک خیال جو عادت میں داخل ہو گیا ہے اُس کو ایک دوسری عادت کے ساتھ جدا کرنے کی مشق حاصل نہ کی جائے۔ کسی عیسائی کا ایک چھوٹا سالڑ کا بھی گنگا کے پانی کو صرف دریا کا پانی سمجھتا ہے اور اس سے زیادہ گناہ سے نجات وغیرہ کا خیال اس سے متعلق نہیں کرتا مگر ایک پرانے خیال کے معتقد بڑھے ہندو کے نزدیک اس پانی میں ایک غوطہ مارنے سے انسان کے کل گناہ دفع ہو جاتے ہیں۔ ایک عیسائی کے نزدیک خدا کی تثلیث برحق ہے مگر ایک مسلمان یا براہمو کے نزدیک وہ بالکل لغو ہے۔ اگر کسی ایسے ہندو یا عیسائی سے بحث کر کے اس کے خیال کی لغویت کو ظاہر بھی کر دو ( کہ جس کا ظاہر کرنا کچھ مشکل بات نہیں ) مگر وہ اس کی لغویت کو تسلیم نہیں کرتا ہے حتی کہ جب جواب سے عاجز آتا ہے تو یہ کہہ کر کہ "گو میں ٹھیک جواب نہیں دے سکتا ہوں مگر میں اس کا قائل ہوں اور دل سے اسے ٹھیک جانتا ہوں“۔ یہ دل کی گواہی اس کی وہی عادت ہے کہ جو حکما کے نزدیک طبیعت ثانی کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔ پس جس الہام کے آپ قائل ہیں اس کی بھی وہی کیفیت ہے آپ کے نزدیک ایک عرصہ دراز کی عادت کے باعث وہ خیال ایسا پختہ اور صحیح ہو گیا ہے کہ آپ اس کے مخالف ہماری مضبوط (۲۵) سے مضبوط دلیل بھی قابل اطمینان نہیں پاتے ہیں اور جب ایک طرف سے اپنی دلیل کو کمزور دیکھتے ہیں تو دوسری طرف بدل کر چل دیتے ہیں ۔ اس طور پر فیصلہ ہونا محال ہے۔ آج تک کسی سے ہوا بھی نہیں اور نہ آئندہ ہونے کی امید ہے۔