پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 548

پُرانی تحریریں — Page 25

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵ پرانی تحریر میں سلسلہ سے پُر ہے۔ اور اس سلسلہ میں جو ہزاروں برس کا تجر بہ ظاہر کرتا ہے کسی محقق کے لئے اس نتیجہ پر پہنچنا بہت دشوار نہیں رہتا ہے کہ انسان فی ذاتہ تمام ضروری اعضاء جسمانی اور قواعد دماغی اور اخلاقی سے مشرف ہو کر اس دنیا میں (جو اس کے تمام نیچر کے حسب حال اور باہمی ربط اور علاقہ کے ساتھ وابستہ کی گئی ہے ) آپ اپنا راستہ ڈھونڈھے اور خود اپنی جسمانی اور روحانی بھلائی اور بہتری کے وسائل کا علم حاصل کرے اور فائدہ اٹھائے۔ پس اس قانون قدرت کو پس انداز کر کے یا حکیم حقیقی کی دانائی کے خلاف اگر ہم ایک یہ فرضی دلیل قائم کریں کہ چونکہ انسان کو اپنے چاروں طرف دیکھنا ضروریات سے ہے اور دیکھنے کے لئے جو دو آنکھیں اس کے چہرے پر قائم کی گئی ہیں وہ جس وقت سامنے کی اشیاء کے دیکھنے میں مصروف ہوتی ہیں اس وقت پیچھے سے اس کے اگر اس کی ہلاکت کا سامان کیا گیا ہو تو وہ بشرط آگے کی دو ہی آنکھوں کے ہونے کے ضرور ہے کہ پیچھے کے حال کے دیکھنے سے محروم رہے۔ پس ممکن نہ تھا کہ خدا جو رحیم اور کریم اور حکیم ہے وہ اسے سر کے پیچھے کی طرف بھی دو آنکھیں ایسی عطا نہ کرتا کہ جس سے وہ مذکورہ بالا خطرہ سے نجات پانے کی تدبیر کر سکتا۔ پس جبکہ سر کے پیچھے کی طرف دو آنکھوں کے ہونے کی ضرورت ہے لہذا لازم ہوا کہ خدا اپنے بندوں کی مزید حفاظت کی غرض سے ایسی آنکھیں عطا کرے یا اسی قسم کی ایک اور دلیل ہم یہ قائم کریں کہ چونکہ انسان کی عقل خطا کرتی ہے اور اسے یہ علم بھی آج تک حاصل نہیں ہے کہ بمبئی سے جس جہاز پر وہ ولایت کو روانہ ہوتا ہے اس کی روانگی کی تاریخ سے ہفتہ یا ڈیڑھ ہفتہ بعد جو خطرناک طوفان سمندر میں آنے والا ہے اور جس میں اس کا جہاز غرق ہونے کو ہے اسے پہلے سے جان سکے۔ پس جس حالت میں نہ خود انسان اپنے علم اور واقفیت سے اپنے تئیں طوفان کے مہلک اور خوفناک اثر سے محفوظ کر سکتا ہے (۲۰)