پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 548

پُرانی تحریریں — Page 26

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۶ پرانی تحریریں اور وہ خدا ( جو رحیم اور کریم اور ہر ایک سہو و خطا سے مبرا اور ہر امر کی حقیقت پر واقف ہے) بذریعہ اپنے نج کے پیغام کے فوراً اپنے بندوں کی مدد کرے تو پھر ہم عاجز بندے کیونکر اپنی جان کو ہلاکت کے طوفان سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پس مقتضاء حکمت اور رحمت اور بندہ پروری اس قادر مطلق کا یہی ہے کہ وقتا فوقتا وہ ہم کو طوفان کے آنے کی اس قدر عرصہ پہلے سے خبر دیتار ہے کہ جس سے ہمیں اپنے اور اپنے جہاز کے بچانے کا موقع مل سکے۔ اب ظاہر ہے کہ جو لوگ حقیقت کے سمجھنے کا کافی ملکہ رکھتے ہیں اور منطق کے اصول کا بخوبی علم رکھتے ہیں وہ ہماری ان دونوں دلیلوں کو قطعی لنگڑی اور بے بنیاد خیال کریں گے ۔ کیوں؟ اس لئے کہ اول دونوں دلیلوں میں ضرورت کا جو کچھ قیاس قائم کیا گیا ہے اور جسے ہم نے اپنے نتیجہ کی علت قرار دیا ہے وہ محض ہمارا ایک وہمی اور فرضی قیاس ہے قوانین نیچر سے اس کی تائید نہیں ہوتی بلکہ ہم الٹا قوانین نیچر کو پس انداز کر کے خدا کی خود دانائی پر حاشیہ چڑھاتے ہیں۔ دوم چونکہ ہماری علت فرضی ہوتی ہے پس اس سے جو نتیجہ ہم قائم کرتے ہیں وہ بھی فرضی ہوتا ہے۔ اور واقعات نیچری خود اس کی تردید کرتے ہیں چنانچہ جیسے پہلی مثال کے متعلق ہمارا نتیجہ واقعات کے خلاف ہے اور در حقیقت انسان کے سر کے پیچھے دو آنکھیں اور زائد قائم نہیں کی گئی ہیں۔ دوسری مثال میں بھی ویسے ہی با وجود اس کے کہ سینکڑوں جہاز آج تک سمندر میں غرق ہو چکے ہیں اور ہزاروں اور لاکھوں جانیں ان کے ساتھ ضائع ہو چکی ہیں مگر آج تک خدا نے کسی جہاز والے کے پاس کوئی نج کا پیغام اس قسم کا نہیں بھیجا جس کا دوسری مثال میں ذکر ہوا ہے پس دونوں صورتوں میں ہماری ضرورت کا قیاس خدا کی دانائی یا قوانین قدرت کے موافق نہ تھا اس لئے اس کا نتیجہ بھی خدا کی حکمت کے خلاف ہونے کے باعث نیچر کے واقعات سے تصدیق نہ پاسکا اور محض فرضی ثابت ہوا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ آپ نے اپنے الہام کی ضرورت پر جو دلیل پیش کی ہے وہ بجنسہ ہماری دونوں دلیلوں کے متشابہ ہے