پُرانی تحریریں — Page 20
روحانی خزائن جلد ۲ مسئلہ الہام کی بحث پر خط و کتابت پرانی تحریریں الہام ایک القاء نیہی ہے کہ جس کا حصول کسی طرح کی سوچ اور تر داور نظر اور تد بر پر موقوف نہیں ہوتا اور ایک واضح اور منکشف احساس سے کہ جیسے سامع کو متکلم سے یا مضروب کو ضارب سے یا ملموس کو لامس سے ہو محسوس ہوتا ہے اور اس سے نفس کو مثل حرکات فکریہ کے کوئی الم روحانی نہیں پہنچتا بلکہ جیسے عاشق اپنے معشوق کی رویت سے بلا تکلف انشراح اور انبساط پاتا ہے ویسا ہی روح کو الہام سے ایک از لی اور قدیمی رابطہ ہے کہ جس سے روح لذت اٹھاتا ہے۔ غرض یہ ایک منجانب اللہ اعلام لذیذ ہے کہ جس کو نفت في الروع اور وحی بھی کہتے ہیں۔ دلیل لمی نمبر اول الہام کی ضرورت پر کوئی قانون عاصم ہمارے پاس ایسا نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ سے ہم لزوما غلطی سے بیچ سکیں ۔ یہی باعث ہے کہ جن حکیموں نے قواعد منطق کے بنائے اور مسائل مناظرہ کے ایجاد کئے اور دلائل فلسفہ کے گھڑے وہ بھی غلطیوں میں ڈوبتے رہے۔ اور صد ہا طور کے باطل خیال اور جھوٹا فلسفہ اور نکمی باتیں اپنی نادانی کے یادگار میں چھوڑ گئے ۔ پس اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ اپنی ہی تحقیقات سے جمیع امور حقہ اور عقائد صحیحہ پر پہنچ جانا اور کہیں غلطی نہ کرنا ایک محال عادی ہے کیونکہ آج تک ہم نے کوئی فرد بشر ایسا نہیں دیکھا اور نہ سنا اور نہ کسی تاریخی کتاب میں لکھا ہوا پایا کہ جو اپنی تمام نظر اور فکر میں سہو اور خطا سے معصوم ہو ۔ پس بذریعہ قیاس استقرائی کے یہ صیح اور سچا نتیجہ نکلتا ہے کہ وجود ایسے اشخاص کا کہ جنہوں نے صرف قانون قدرت میں فکر اور ۱۵