پُرانی تحریریں — Page 19
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۹ پرانی تحریریں کہ یہ خیال پنڈت صاحب کا جو پر میشر کو صانع ہونے میں کمہار اور بڑھئی سے مشابہت ہے قیاس مع الفارق ہے۔ کاش اگر وہ خدا کو قیوم اشیاء کا مانتے اور نجاروں سانہ جانتے تو ان کو یہ تو کہنا نہ پڑتا کہ پر میشر کی موت فرض کرنے سے روحوں کا کچھ بھی نقصان نہیں لیکن شاید وید میں یہی لکھا ہوگا۔ ورنہ میں کیونکر کہوں کہ پنڈت صاحب کو قیومیت پروردگارا جو اجلی بدیہیات ہے کچھ شک ہے۔ اور اگر پنڈت صاحب پر میشر کو قیوم سب چیزوں کا مانتے ہیں تو پھر اس کو کمہاروں اور معماروں سے نسبت دینا کس قسم کی بدیا ہے۔ اور وید میں اس پر دلیل کیا لکھی ہے۔ دیکھو فرقان مجید میں صفت قیومی پروردگار کی کئی مقام میں ثابت کی ہے جیسا کہ مکرر اس دوسری آیت میں بھی فرمایا ہے۔ اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لے یعنی خدا آسمان و زمین کا نور ہے۔ اسی سے طبقہ سفلی اور علوی میں حیات اور بقا کی روشنی ہے پس اس ہماری تحقیق سے جز اول قیاس مرکب کی ثابت ہوئی اور صغری جز ثانی قیاس مرکب کا وہی ہے جو جز اول قیاس مرکب کا نتیجہ ہے اور جز اول قیاس مرکب کی ابھی ثابت ہو چکی ہے۔ پس نتیجہ بھی ثابت ہو گیا۔ اور کبری جز ثانی کا جو زندہ ازلی ابدی اور قیوم سب چیزوں کا ہو وہ خالق ہوتا ہے۔ اس طرح پر ثابت ہے کہ قیوم اسے کہتے ہیں کہ جس کا بقا اور حیات دوسری چیزوں کے بقا اور حیات اور ان کے کل مایحتاج کے حصول کا شرط ہو اور شرط کے یہ معنے ہیں کہ اگر اس کا عدم فرض کیا جائے تو ساتھ ہی مشروط کا عدم فرض کرنا پڑے جیسے کہیں کہ اگر خدائے تعالیٰ کا وجود نہ ہو تو کسی چیز کا وجود نہ ہو۔ پس یہ قول کہ اگر خدائے تعالیٰ کا وجود نہ ہو تو کسی چیز کا وجود نہ ہو بعینہ اس قول کے مساوی ہے کہ خدائے تعالیٰ کا وجود نہ ہوتا تو کسی چیز کا وجود نہ ہوتا۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ خدائے تعالیٰ کا وجود دوسری چیزوں کے وجود کا علت ہے اور خالقیت کے بجز اس کے اور کوئی معنے نہیں کہ وجود خالق کا وجود مخلوق کے لئے علت ہو ۔ پس ثابت ہو گیا کہ خدا خالق ہے اور یہی مطلب تھا۔ الراقم مرزا غلام احمد رئیس قادیان النور : ٣٦