پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 548

پُرانی تحریریں — Page 18

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۸ پرانی تحریریں کے معبود ازلی ابدی نہ رہا تو اس سے یہ قضیہ کا ذب ہوا کہ خدا کو معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہے۔ حالانکہ ابھی ذکر ہو چکا ہے کہ یہ قضیہ صادق ہے۔ پس مانا پڑا کہ جس کو تمام اشیاء کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہو وہ زندہ ازلی ابدی ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر خدا تمام چیزوں کا قیوم نہیں یعنی حیات اور بقاء دوسروں کی اس کی حیات اور بقاء پر موقوف نہیں تو اس صورت میں وجود اس کا بقاء مخلوقات کے واسطے کچھ شرط نہ ہوگا بلکہ تا شیر اس کی بطور مؤثر بالقسر ہوگی نہ بطور علت حقیقتہ حافظ الاشیاء کے کیونکہ موثر بالقسر اسے کہتے ہیں کہ جس کا وجود اور بقاء اس کے متاثر کے بقاء کے واسطے شرط نہ ہو جیسے زید نے مثلاً ایک پتھر چلایا اور اسی وقت پتھر چلاتے ہی مر گیا ۔ تو بے شک اس پتھر کو جو ابھی اس کے ہاتھ سے چھٹا ہے بعد موت زید کے بھی حرکت رہے گی پس اسی طرح اگر بقول آریہ سماج والوں کے خدائے تعالیٰ کو محض مؤثر بالقسر قرار دیا جائے تو اس سے نعوذ باللہ یہ لازم آتا ہے کہ اگر پر میشر کی موت بھی فرض کریں تو بھی ارواح اور ذرات کا کچھ بھی حرج نہ ہو کیونکہ بقول پنڈت دیانند صاحب کے کہ جس کو انہوں نے ستیارتھ پرکاش میں درج فرما کر توحید کا ستیا ناس کیا ہے اور نیز بقول پنڈت کھڑک صاحب کے کہ جنہوں نے بغیر سوچے سمجھے تقلید پنڈت دیانند صاحب کی اختیار کی ہے وید میں یہ لکھا ہے کہ سب ارواح اپنی بقاء اور حیات میں بالکل پر میشر سے بے غرض ہیں اور جیسے بڑھتی کو چوکی سے اور کمہار کو گھڑے سے نسبت ہوتی ہے وہی پر میشر کو مخلوقات سے نسبت ہے یعنی صرف جوڑ نے جاڑنے سے ٹنڈا پر میشر گریکا چلاتا ہے اور قیوم چیزوں کا نہیں ہے لیکن ہر ایک دانا جانتا ہے کہ ایسا ماننے سے یہ لازم آتا ہے کہ پر میشر کا وجود بھی مثل کمہاروں اور نجاروں کے وجود کے بقاء اشیاء کے لئے کچھ شرط نہ ہو بلکہ جیسے بعد موت کمہاروں اور بڑھئیوں کے گھڑے اور چوکیاں اسی طرح بنے رہتے ہیں اسی طرح بصورت فوت ہونے پر میشر کے بھی اشیاء موجودہ میں کچھ بھی خلل واقع نہ ہو سکے ۔ پس ثابت ہوا