پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 548

پُرانی تحریریں — Page 8

روحانی خزائن جلد ۲ Δ پرانی تحریریں کے ماتحت نہیں ہوسکتا اس سے دور یا تسلسل لازم آتا ہے۔ لیکن حال واقعہ جومسلم فریقین ہے یہ ہے کہ سب ارواح خدائے تعالیٰ کے ماتحت ہیں کوئی اس کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ وہ سب حادث اور مخلوق ہیں کوئی ان میں سے خدا اور واجب الوجود نہیں اور یہی مطلب تھا۔ دلیل دوم جو انی ہے یعنی معلول سے علت کی طرف دلیل لی گئی ہے۔ دیکھو سورة الفرقان ۔ لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا لے یعنی اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک نہیں وہ سب کا خالق ہے۔ اور اس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہر ایک چیز کو ایک انداز و مقرری پر پیدا کیا ہے کہ جس سے وہ تجاوز نہیں کر سکتی بلکہ اسی اندازہ میں محصور اور محدود ہے۔ اس کی شکل منطقی اس طرح پر ہے کہ ہر جسم اور روح ایک اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہے اور ہر ایک وہ چیز کہ کسی اندازه مقرری میں محصور اور محدود ہو اس کا کوئی حاصر اور محدد ضرور ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک جسم اور روح کے لئے ایک حاصر اور محدود ہے ۔ اب اثبات قضیہ اولی کا یعنی محدود القدر ہونے اشیاء کا اس طرح پر ہے کہ جمیع اجسام اور ارواح میں جو جو خاصیتیں پائی جاتی ہیں عقل تجویز کر سکتی ہے کہ ان خواص سے زیادہ خواص ان میں پائے جاتے مثلاً انسان کی وہ آنکھیں ہیں اور عند العقل ممکن تھا کہ اس کی چار آنکھیں ہوتیں۔ دو مونہہ کی طرف اور دو پیچھے کی طرف تا کہ جیسا آگے کی چیزوں کو دیکھتا ہے ویسا ہی پیچھے کی چیزوں کو بھی دیکھ لیتا۔ اور کچھ شک نہیں کہ چار آنکھ کا ہونا بہ نسبت دو آنکھ کے کمال میں زیادہ اور فائدہ میں دو چند ہے۔ اور انسان کے پر نہیں اور ممکن تھا کہ مثل اور پرندوں کے اس کے پر بھی ہوتے۔ اور علی ہذا القیاس نفس ناطقہ انسانی بھی ایک خاص درجہ میں محدود ہے جیسا کہ وہ بغیر تعلیم کسی معلم کے خود بخود مجہولات کو دریافت نہیں کرسکتا قاسر خارجی ل الفرقان : ٣ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ۔ ہونا چاہیے۔ (ناشر) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے دو “ ہونا چاہیے۔(ناشر)