پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 548

پُرانی تحریریں — Page 7

روحانی خزائن جلد ۲ 2 پیرانی تحریر میں واحد اور قہار ہے اور کبری یہ کہ ہر ایک جو واحد اور قہار ہو وہ تمام موجودات ما سوائے اپنے کا خالق ہے۔ نتیجہ یہ ہوا جو خدا تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ اثبات قضیہ اولی یعنی صغری کا اس طور سے ہے کہ واحد اور قہار ہونا خدائے تعالیٰ کا اصول مسئلہ فریق ثانی بلکہ تمام دنیا کا اُصول ہے ۔ اور اثبات قضیہ ثانیہ یعنی مفہوم کبری کا اس طرح پر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ با وصف واحد اور قہار ہونے کے وجود ما سوائے اپنے کا خالق نہ ہو بلکہ وجود تمام موجودات کا مثل اس کے قدیم سے چلا آتا ہو تو اس صورت میں وہ واحد اور قہار بھی نہیں ہو سکتا ۔ واحد اس باعث سے نہیں ہو سکتا کہ وحدانیت کے معنے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ شرکت غیر سے بکلی پاک ہو۔ اور جب خدائے تعالی خالق ارواح نہ ہو تو اس سے دو طور کا شرکت لازم آیا ۔ اوّل یہ کہ سب ارواح غیر مخلوق ہو کر مثل اس کے قدیم الوجود ہو گئے ۔ دوم یہ کہ ان کے لئے بھی مثل پروردگار کے ہستی حقیقی ماننی پڑے جو مستفاض عن الخیر نہیں ۔ پس اسی کا نام شرکت بالغیر ہے۔ اور شرک بالغیر ذات باری کا بہ بداہت عقل باطل ہے۔ کیونکہ اس سے شریک الباری پیدا ہوتا ہے اور شریک الباری ممتنع اور محال ہے۔ پس جو امر مستلزم محال ہو وہ بھی محال ہے اور قبار اس باعث سے نہیں ہو سکتا کہ صفت قہاری کے یہ معنے ہیں کہ دوسروں کو اپنے ماتحت میں کر لینا اور ان پر قابض اور متصرف ہو جانا۔ سو غیر مخلوق اور روحوں کو خدا اپنے ماتحت نہیں کر سکتا کیونکہ جو چیزیں اپنی ذات میں قدیم اور غیر مصنوع ہیں وہ بالضرورت اپنی ذات میں واجب الوجود ہیں اس لئے کہ اپنے تحقیق وجود میں دوسری کسی علت کے محتاج نہیں اور اسی کا نام واجب ہے جس کو فارسی میں خدا یعنی خود آئندہ کہتے ہیں۔ پس جب ارواح مثل ذات باری تعالیٰ کے خدا اور واجب الوجود ٹھہرے۔ تو ان کا باری تعالی ۵ کے ماتحت رہنا عند العقل محال اور ممتنع ہوا۔ کیونکہ ایک واجب الوجود دوسرے واجب الوجود حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے دوطور کی شرکت لازم آئی “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)