پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 548

پُرانی تحریریں — Page 6

روحانی خزائن جلد ۲ پرانی تحریریں کمالات ان کی ذات سامی میں پوشیدہ ہیں منصہ ظہور میں لاویں اور نہ عوام کا لانعام کے سامنے دم زنی کرنا صرف ایک لاف گزاف ہے اس سے زیادہ نہیں۔اب میں ذیل میں مضمون موعودہ لکھتا ہوں۔ مضمون ابطال تناسخ و مقابله فلسفه وید و قرآن جس کے طلب جواب میں صاحبان فضلاء آریہ سماج یعنی پنڈت کھڑک سنگھ صاحب۔سوامی پنڈت دیانند صاحب۔ جناب باوا نرائن سنگھ صاحب۔ جناب منشی جیوند اس صاحب۔ جناب منشی کنھیا لال صاحب۔ جناب منشی بختاور سنگھ صاحب ایڈیٹر آریہ در پن۔ جناب بابو سارد اپرشاد صاحب۔ جناب منشی شرم پت صاحب سکرتری آریہ سماج قادیاں جناب منشی اندرمن صاحب مخاطب ہیں بوعدہ انعام پانسور و پیہ۔ آریا صاحبان کا پہلا اصول جو مدار تاریخ ہے یہ ہے جو دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں اور سب ارواح مثل پر میشر کے قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی پر میشر ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اصول غلط ہے اور اس پر تناسخ کی پڑی جمانا بنیا دفاسد بر فاسد ہے قرآن مجید کہ جس پر تمام تحقیق اسلام کی مینی ہے اور جس کے دلائل کو پیش کرنا بغرض مطالبہ (۴) دلائل دید اور مقابلہ باہمی فلسفہ مندرجہ وید اور قرآن کے ہم وعدہ کر چکے ہیں۔ ضرورت خالقیت باری تعالیٰ کو دلائل قطعیہ سے ثابت کرتا ہے چنانچہ وہ دلائل یہ تفصیل ذیل ہیں:۔ دلیل اول جو برہان لیمی ہے یعنی علت سے معلول کی طرف دلیل گئی ہے۔ دیکھو سورہ رعد الجز ۱۳ اللهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۔ یعنی خدا ہر ایک چیز کا خالق ہے کیونکہ وہ اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے اور واحد بھی ایسا کہ قہار ہے یعنی سب چیزوں کو اپنے ماتحت رکھتا ہے اور ان پر غالب ہے۔ یہ دلیل بذریعہ شکل اوّل جو بد یہی الانتاج ہے اس طرح پر قائم ہوتی ہے کہ صغریٰ اس کا یہ ہے جو خدا الرعد : ۱۷