پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 469 of 567

پیغام صلح — Page 469

روحانی خزائن جلد ۲۳ پیغام صلح نہیں بلکہ یہ اُن لوگوں کے کام ہیں جن کے دل نور ایمان سے بھر جاتے ہیں اور جن کے دلوں میں خدا ہی خدا ہوتا ہے۔ پھر ہم اس طرف رجوع کرتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔ واضح ہو کہ اسلام کا بڑا بھاری مقصد خدا کی تو حید اور جلال زمین پر قائم کرنا اور شرک کا بکلی استیصال کرنا اور تمام متفرق فرقوں کو ایک کلمہ پر قائم کر کے اُن کو ایک قوم بنا دینا ہے اور پہلے مذاہب جس قدر دنیا میں گذرے ہیں اور جس قدر نبی اور رسول آئے ہیں اُن کی نظر (۲۴) صرف اپنی قوم اور اپنے ملک تک محدود تھی ۔ اور اگر انہوں نے کچھ اخلاق بھی سکھلائے تھے۔ تو اس اخلاقی تعلیم سے اُن کا مقصد اس سے زیادہ نہ تھا کہ اپنی ہی قوم کو اُن کے اخلاق سے بہرہ یاب کریں چنانچہ حضرت مسیح نے صاف صاف کہہ دیا کہ میری تعلیم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے۔ اور جب ایک عورت نے جو اسرائیلی خاندان میں داخل نہ تھی بڑی عاجزی سے اُن سے ہدایت چاہی تو انہوں نے اُس کو رد کیا اور پھر وہ غریب عورت کتیا سے اپنے تئیں مشابہت دے کر دوبارہ ہدایت کی مستندعی ہوئی تو وہی جواب اُس کو ملا کہ میں صرف اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے بھیجا گیا ہوں ۔ آخر وہ چپ رہ گئی مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں نہیں کہا کہ میں صرف عرب کے لئے بھیجا گیا ہوں بلکہ قرآن شریف میں یہ ہے قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا یعنی لوگوں سے کہہ دے کہ میں تمام دنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں مگر یا در ہے کہ حضرت عیسی کا اُس عورت کو صاف جواب دینا یہ ایسا امر نہیں ہے کہ اس میں حضرت عیسی کا کوئی گناہ تھا بلکہ عام ہدایت کا ابھی وقت نہیں آیا تھا اور حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی حکم تھا کہ تم خاص بنی اسرائیل کے لئے بھیجے گئے ہو الاعراف : ۱۵۹