پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 470 of 567

پیغام صلح — Page 470

روحانی خزائن جلد ۲۳ پیغام صلح ۴۵ اوروں سے تمہیں کچھ غرض نہیں۔ پس جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے۔ حضرت عیسی کی اخلاقی تعلیم بھی محض یہودیوں تک محدود تھی ۔ بات یہ تھی کہ توریت میں یہ احکام تھے کہ دانت کے بدلہ دانت اور آنکھ کے بدلہ آنکھ اور ناک کے بدلہ ناک اور اس تعلیم سے صرف یہ غرض تھی کہ تا یہودیوں میں عدل کا مسئلہ قائم کیا جائے اور تعدی اور زیادتی سے روکا جائے۔ چونکہ باعث اس کے کہ وہ چار سو برس تک غلامی میں رہ چکے تھے۔ ان میں ظلم اور سفلہ پن کی خصلتیں بہت پیدا ہوگئی تھیں ۔ پس خدا کی حکمت نے یہ تقاضا کیا کہ جیسا کہ انتقام اور بدلہ لینے میں اُن کی فطرتوں میں ایک تشد د تھا اس کے دُور کرنے کے لئے ایک تشدد کے ساتھ اخلاقی تعلیم پیش کی جائے ۔ سو وہ اخلاقی تعلیم انجیل ہے جو صرف یہودیوں کے لئے ہے نہ تمام دنیا کے لئے کیونکہ دوسری قوموں سے حضرت عیسی کو کچھ بھی غرض نہ تھی۔ مگر واقعی بات یہ ہے کہ اس تعلیم میں جو حضرت عیسی نے پیش کی صرف یہی نقص نہیں کہ وہ دنیا کی عام ہمدردی پر مبنی نہیں بلکہ ایک یہ بھی نقص ہے کہ جیسا کہ توریت تشدد و انتقام کی تعلیم میں افراط کی طرف مائل ہے ۔ ایسا انجیل عفو اور درگذر کی تعلیم میں تفریط کی طرف جھک گئی ہے۔ اور ان دونوں کتابوں نے انسانی درخت کی تمام شاخوں کا کچھ لحاظ نہیں کیا بلکہ اس درخت کی ایک شاخ کو تو تو ریت پیش کرتی ہے۔ اور دوسری شاخ انجیل کے ہاتھ میں ہے اور دونوں تعلیمیں اعتدال سے گری ہوئی ہیں کیونکہ جیسا کہ ہر وقت اور ہر موقعہ پر انتقام لینا اور سزا دینا قرین مصلحت نہیں ایسا ہی ہر وقت اور ہر موقعہ پر عفو اور درگزر کرنا انسانی تربیت کے مصالح سے بالکل مخالف ہے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف نے ان دونوں تعلیموں کو رد کر کے یہ فرمایا ہے۔