پیغام صلح — Page 464
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۶۴ پیغام صلح میں ایسی تبدیلی پیدا ہو گئی کہ وہ وحشیانہ حالت سے انسان بنے اور پھر انسان سے مہذب انسان ۔ اور مہذب انسان سے باخدا انسان ۔ اور آخر خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسے محو ہو گئے کہ انہوں نے ایک بے حس عضو کی طرح ہر ایک دکھ کو برداشت کیا۔ وہ انواع اقسام کی تکالیف سے عذاب دیئے گئے اور سخت بے دردی سے تازیانوں سے مارے گئے اور جلتی ہوئی ریت میں لٹائے گئے اور قید کئے گئے اور (۳۷) بھو کے اور پیاسے رکھ کر ہلاکت تک پہنچائے گئے مگر انہوں نے ہر یک مصیبت کے وقت آگے قدم رکھا ۔ اور بہتیرے ان میں ایسے تھے کہ ان کے سامنے ان کے بیچے قتل کئے گئے اور بہتیرے ایسے تھے کہ بچوں کے سامنے وہ سولی دیئے گئے۔ اور جس صدق سے انہوں نے خدا کی راہ میں جانیں دیں اُس کا تصور کر کے رونا آتا ہے۔ اگر ان کے دلوں پر یہ خدا کا تصرف اور اس کے نبی کی توجہ کا اثر نہ تھا تو پھر وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو اسلام کی طرف کھینچ لیا اور ایک فوق العادت تبدیلی پیدا کر کے ان کو ایسے شخص کے آستانہ پر گرنے کی رغبت دی کہ جو بے کس اور مسکین اور بے زری کی حالت میں مکہ کی گلیوں میں اکیلا اور تنہا پھرتا تھا۔ آخر کوئی روحانی طاقت تھی جو ان کو سفلی مقام سے اٹھا کر اوپر کو لے گئی اور عجیب تر بات یہ ہے کہ اکثر ان کے ان کی کفر کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن اور آنجناب کے خون کے پیاسے تھے ۔ پس میں تو اس سے بڑھ کر کوئی معجزہ نہیں سمجھتا کہ کیوں کر ایک غریب مفلس تنہا بیکس نے ان کے دلوں کو ہر یک کینہ سے پاک کر کے اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہاں تک کہ وہ فخریہ لباس پھینک کر اور ٹاٹ پہن کر خدمت میں حاضر ہو گئے ۔ بعض ناسمجھ جو اسلام پر جہاد کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب لوگ جبراً تلوار سے مسلمان کئے گئے تھے ۔ افسوس ہزار افسوس کہ وہ اپنی بے انصافی