پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 460 of 567

پیغام صلح — Page 460

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۶۰ پیغام صلح مان لیا اور ہر ایک قوم کے نبی خواہ ہند میں گذرے ہیں اور خواہ فارس میں کسی کو مکار اور کذاب نہیں کہا بلکہ صاف طور پر کہہ دیا کہ ہر ایک قوم اور بستی میں نبی گزرے ہیں اور تمام قوموں کے لئے صلح کی بنیاد ڈالی مگر افسوس کہ اس صلح کے نبی کو ہر یک قوم گالی دیتی ہے اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اے ہم وطن پیارو! ! میں نے یہ بیان آپ کی خدمت میں اس لئے نہیں کیا کہ میں آپ کو دکھ دوں یا آپ کی دل شکنی کروں بلکہ میں نہایت نیک نیتی سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جن قوموں نے یہ عادت اختیار کر رکھی ہے اور یہ نا جائز طریق اپنے مذہب میں اختیار کر لیا ہے کہ دوسری قوموں کے نبیوں کو بد گوئی اور دشنام دہی کے ساتھ یاد کریں وہ نہ صرف بے جا مداخلت سے جس کے ساتھ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں خدا کے گنہ گار ہیں بلکہ وہ اس گنہ کے بھی مرتکب ہیں کہ بنی نوع میں نفاق اور دشمنی کا بیج بوتے ہیں ۔ آپ دل تھام کر اس بات کا مجھے جواب دیں کہ اگر کوئی شخص کسی کے باپ کو گالی دے یا اس کی ماں پر کوئی تہمت لگا وے تو کیا وہ اپنے باپ کی عزت پر ۳۲ آپ حملہ نہیں کرتا اور اگر وہ شخص جس کو ایسی گالی دی گئی ہے جواب میں اسی طرح گاتی سنادے تو کیا یہ کہنا بے محل ہوگا کہ بالمقابل گالی دیئے جانے کا دراصل وہی شخص موجب ہے جس نے گالی دینے میں سبقت کی اور اس صورت میں وہ اپنے باپ اور ماں کی عزت کا خود دشمن ہوگا۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس قدر ہمیں طریق ادب اور اخلاق کا سبق سکھلایا ہے کہ وہ فرماتا ہے کہ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ | فَيَسُبُّوا الله عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ) سورة الانعام الجزو نمبر ے ( یعنی تم مشرکوں کے بتوں کو بھی گالی مت دو کہ وہ پھر تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے کیوں کہ الانعام : 1+9: وہ