پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 455 of 567

پیغام صلح — Page 455

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۵۵ پیغام صلح اگر اس قسم کی صلح نام کے لئے ہند و صاحبان اور آریہ صاحبان طیار ہوں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا سچا نبی مان لیں اور آئندہ تو ہین اور تکذیب چھوڑ دیں تو میں سب (۲۶) سے پہلے اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے پر طیار ہوں کہ ہم احمدی سلسلہ کے لوگ ہمیشہ وید کے مصدق ہوں گے اور وید اور اُس کے رشیوں کا تعظیم اور محبت سے نام لیں گے اور اگر ایسا نہ کریں گے تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگی ہندو صاحبوں کی خدمت میں ادا کریں گے۔ اور اگر ہند و صاحبان دل سے ہمارے ساتھ صفائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ایسا ہی اقرار لکھ کر اس پر دستخط کر دیں اور اس کا مضمون بھی یہ ہوگا کہ ہم حضرت محمد مصطفیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کو سچا نبی اور رسول سمجھتے ہیں اور آئندہ آپ کو ادب اور تعظیم کے ساتھ یاد کریں گے جیسا کہ ایک ماننے والے کے مناسب حال ہے اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگی احمدی سلسلہ کے پیش رو کی خدمت میں پیش کریں گے۔ یادر ہے کہ ہماری احمدی جماعت اب چار لاکھ سے کچھ کم نہیں ہے۔ اس لئے ایسے بڑے کام کے لئے تین لاکھ روپیہ چندہ کوئی بڑی بات نہیں ہے اور جو لوگ ہماری جماعت سے ابھی باہر ہیں دراصل وہ سب پراگندہ طبع اور پراگندہ خیال ہیں ۔ کسی ایسے لیڈر کے ماتحت وہ لوگ نہیں ہیں جو ان کے نزدیک واجب الاطاعت ہے۔ اس لئے میں اُن کی نسبت کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ابھی تو وہ لوگ مجھے بھی کافر اور دجال قرار دیتے ہیں لیکن میں اُمید رکھتا ہوں کہ جب ہند و صاحبان میرے ساتھ ایسا معاہدہ کر لیں گے تو یہ لوگ بھی ہر گز ایسی بے جا حرکت کے مرتکب نہیں ہوں گے کہ ایسی مہذب قوم کی ۲۷ کتاب اور رشیوں کو بُرے الفاظ سے یاد کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دلائیں۔ ایسی گالیاں تو در حقیقت انہیں لوگوں کی طرف سے منسوب کی جائیں گی جو اس حرکت کے