پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 567

پیغام صلح — Page 456

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۵۶ پیغام صلح مرتکب ہوں گے۔ اور چونکہ ایسی حرکت حیا اور شرافت کے برخلاف ہے۔ اس لئے میں اُمید نہیں رکھتا کہ اس معاہدہ کے بعد وہ لوگ اپنی زبان کھولیں لیکن یہ ضروری ہوگا کہ معاہدہ کی تحریر کو پختہ کرنے کے لئے دونوں فریق کے دس دس ہزار سمجھ دار لوگوں کے اس پر دستخط ہوں ۔ پیارو ! ! صلح جیسی کوئی بھی چیز نہیں ۔ آو ہم اس معاہدہ کے ذریعہ سے ایک ہو جائیں۔ اور ایک قوم بن جائیں ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ با ہمی تکذیب سے کسی قدر پھوٹ پڑ گئی ہے۔ اور ملک کو کس قدر نقصان پہنچتا ہے ۔ آؤ اب یہ بھی آزما لو کہ با ہمی تصدیق کی کس قدر برکات ہیں ۔ بہترین طریق صلح کا یہی ہے ۔ ورنہ کسی دوسرے پہلو سے صلح کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ ایک پھوڑے کو جو شفاف اور چمکتا ہوا نظر آتا ہے اسی حالت میں چھوڑ دیں اور اس کی ظاہری چمک پر خوش ہو جائیں حالانکہ اس کے اندر سری ہوئی اور بد بودار پیپ موجود ہے ۔ مجھے اس جگہ ان باتوں کا ذکر کرنے سے کچھ غرض نہیں کہ وہ نفاق اور فساد جو ہندو اور مسلمانوں میں آج کل بڑھتا جاتا ہے اس کے وجوہ صرف مذہبی اختلافات تک محدود نہیں ہیں بلکہ دوسری اغراض اس کی وجوہ ہیں جو دنیا کی خواہشوں اور معاملات سے متعلق ہیں مثلاً ہندوؤں کو ابتدا سے یہ خواہش ہے کہ گورنمنٹ اور ملک کے معاملات میں ان کا دخل ہو یا کم سے کم یہ کہ ملک داری کے معاملات میں ان کی رائے لی جائے اور گورنمنٹ ان کی ہر یک شکایت کو توجہ سے سنے اور بڑے بڑے گورنمنٹ کے عہدے انگریزوں کی طرح ان کو بھی ملا کریں۔ مسلمانوں سے یہ غلطی ہوئی کہ ہندوؤں کی ان کوششوں میں شریک نہ ہوئے اور خیال کیا کہ ہم تعداد میں کم ہیں اور یہ سوچا کہ ان تمام کوششوں کا اگر کچھ فائدہ ہے تو وہ ہندوؤں کے لئے ہے نہ کہ مسلمانوں کے لئے اس لئے نہ صرف شراکت سے دستکش رہے بلکہ مخالفت کر کے ہندوؤں کی کوشش کے