پیغام صلح — Page 453
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۵۳ پیغام صلح کے لئے کافی ہے کیونکہ اگر وہ خدا کی طرف سے نہ ہوتے تو یہ قبولیت کروڑہا لوگوں کے دلوں میں نہ پھیلتی خدا اپنے مقبول بندوں کی عزت دوسروں کو ہرگز نہیں دیتا اور اگر کوئی کاذب اُن (۲۳) کی کرسی پر بیٹھنا چاہے تو جلد تباہ ہوتا اور ہلاک کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں اور اُس کے رشیوں کو بزرگ اور مقدس سمجھتے ہیں اگر چہ ہم دیکھتے ہیں کہ وید کی تعلیم پورے طور پر کسی فرقے کو خدا پرست نہیں بنا سکی اور نہ بنا سکتی تھی اور جو لوگ اس ملک میں بت پرست یا آتش پرست یا آفتاب پرست یا گنگا کی پوجا کرنے والے یا ہزار ہا دیوتاؤں کے پوجاری یا جین مت یا شاکت مت والے پائے جاتے ہیں۔ وہ تمام لوگ اپنے مذاہب کو دید ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ اور وید ایک ایسی مجمل کتاب ہے کہ یہ تمام فرقے اُسی میں سے اپنے اپنے مطلب نکالتے ہیں تا ہم خدا کی تعلیم کے موافق ہمارا پختہ اعتقاد ہے کہ دید انسان کا افتر انہیں ہے۔ انسان کے افترا میں یہ قوت نہیں ہوتی کہ کروڑ ہا لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لے اور پھر ایک دائمی سلسلہ قائم کر دے اور اگر چہ ہم نے وید میں پتھر کی پرستش کا ذکر تو کہیں نہ پڑھا لیکن بلاشبہ اگنی وایو اور جل اور چاند اور سورج وغیرہ کی پرستش سے وید بھرا ہوا ہے اور کسی شرقی میں ان چیزوں کی پرستش کے لئے ممانعت نہیں ۔ اب اس کا کون فیصلہ کرے کہ دوسرے تمام قدیم فرقے ہندوؤں کے جھوٹے ہیں اور صرف نیا فرقہ آریوں کا سچا اور جولوگ وید کے حوالہ سے ان چیزوں کی پرستش کرتے ہیں اُن (۲۴) کے ہاتھ میں یہ دلیل پختہ ہے کہ ان چیزوں کی پرستش کا وید میں صریح ذکر ہے اور ممانعت کہیں بھی نہیں اور یہ کہنا کہ یہ سب پر میشر کے نام ہیں ہنوز یہ ایک دعوی ہے کہ جو بھی صفائی سے طے نہیں ہوااو راگر طے ہو جاتا تو کچھ وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ بڑے بڑے پنڈت بنارس اور دوسرے شہروں کے آریوں کے عقیدوں کو قبول نہ کرتے باوجود تمہیں پینتیس برس کی کوششوں کے بہت ہی کم ہندوؤں نے آریہ مذہب اختیار کیا ہے اور بمقابلہ سناتن دھرم اور دوسرے ہندو