پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 567

پیغام صلح — Page 452

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۵۲ پیغام صلح اور اگر عقل سے کام لیا جائے تو ہر ایک کام کی بھلائی یا بُرائی اس کے نتیجہ سے بھی معلوم ہوسکتی ہے۔ پس مجھے اس بات کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ خدا کے ان بزرگ نبیوں کی ہتک اور ان کو گالیاں دینا جن کی غلامی اور اطاعت کے حلقہ میں ہر طبقہ کے کروڑہا انسان داخل ہیں اس کا نتیجہ کیسا ہے۔ اور انجام کا ر اس کا پھل کیا ہے کیونکہ کوئی ایسی قوم نہیں کہ جو ایسے نتیجہ کو کچھ نہ کچھ دیکھ نہ چکی ہو۔ اے عزیز و!! قدیم تجر بہ اور بار بار کی آزمائش نے اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ مختلف ۲۲ قوموں کے نبیوں اور رسولوں کو تو ہین سے یاد کرنا اور اُن کو گالیاں دینا ایک ایسی زہر ہے کہ نہ صرف انجام کار جسم کو ہلاک کرتی ہے بلکہ روح کو بھی ہلاک کر کے دین اور دنیا دونوں کو تباہ کرتی ہے۔ وہ ملک آرام سے زندگی بسر نہیں کر سکتا جس کے باشندے ایک دوسرے کے رہبر دین کی عیب شماری اور ازالہ حیثیت عرفی میں مشغول ہیں۔ اور ان قوموں میں ہر گز سچا اتفاق نہیں ہوسکتا جن میں سے ایک قوم یا دونوں ایک دوسرے کے نبی یا رشی اور اوتار کو بدی یا بد زبانی کے ساتھ یاد کرتے رہتے ہیں۔ اپنے نبی یا پیشوا کی ہتک سن کر کس کو جوش نہیں آتا ۔ خاص کر مسلمان ایک ایسی قوم ہے کہ وہ اگر چہ اپنے نبی کو خدا یا خدا کا بیٹا تو نہیں بناتی مگر آنجناب کو ان تمام برگزیدہ انسانوں سے بزرگ تر جانتے ہیں کہ جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے پس ایک بچے مسلمان سے صلح کرنا کسی حالت میں بجز اس صورت سے ممکن نہیں کہ اُن کے پاک نبی کی نسبت جب گفتگو ہوتو بحر تعظیم اور پاک الفاظ کے یاد نہ کیا جائے۔ اور ہم لوگ دوسری قوموں کے نبیوں کی نسبت ہرگز بد زبانی نہیں کرتے بلکہ ہم یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جس قدر دنیا میں مختلف قوموں کے لئے نبی آئے ہیں اور کروڑ ہا لوگو ں نے ان کو مان لیا ہے اور دنیا کے کسی ایک حصہ میں اُن کی محبت اور عظمت جاگزیں ہو گئی ہے اور ایک زمانہ دراز اس محبت اور اعتقاد پر گذر گیا ہے تو بس یہی ایک دلیل اُن کی سچائی