پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 451 of 567

پیغام صلح — Page 451

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۵۱ پیغام صلح ملک کے مذہب کی تصدیق کر سکے کیونکہ ہر یک مذہب کے لئے جو شاعرانہ طور پر مبالغہ کر کے خصوصیتیں اور فضیلتیں مقرر ہو چکی تھیں اُن کا دور کرنا کچھ سہل کام نہ تھا۔ اس لئے ہر یک اہل مذہب نے دوسرے مذہب کی تکذیب پر کمربستہ کی۔ زند واستا کے مذہب نے ہمچو من دیگرے نیست کا جھنڈا کھڑا کر دیا اور سلسلہ پیغمبری کو اپنے خاندان تک ہی محدود رکھا اور اپنے مذہب کی اتنی لمبی تاریخ بتلائی کہ وید کی تاریخ بتلانے والے اُن کے سامنے شرمندہ ہیں۔ ادھر عبرانیوں کے مذہب نے حد ہی کر دی کہ ہمیشہ کے لئے خدا کا تخت گاہ ملک شام ہی قرار دیا گیا اور ہمیشہ انہیں کے خاندان کے برگزیدہ لوگ اس لائق قرار پائے کہ وہ ملک کی اصلاح کے لئے بھیجے جائیں مگر حکما وہ اصلاح بنی اسرائیل تک ہی محدود رہی اور انہیں کے خاندان پر الہام اور خدا کی وحی کی مہر لگ گئی اور جو دوسرا اٹھے وہ کا ذب کہلا دے۔ ایسا ہی آریہ ورت میں بھی بعینہ یہی خیالات شائع ہو گئے جو اسرائیلیوں میں شائع ہوئے اور اُن کے عقیدہ کی رو سے پر میشر صرف آریہ ورت کا ہی راجہ ہے اور راجہ بھی ایسا جس کو دوسرے ملکوں کی خبر ہی نہیں اور بغیر کسی دلیل کے یہ مانا جاتا ہے کہ جب سے پر میشر ہے اس کو آریہ ورت کی ہی آب و ہوا پسند آگئی ہے۔ وہ ہرگز چاہتا نہیں کہ دوسرے ملکوں میں بھی کبھی دورہ کرے اور کبھی ان بیچاروں کی خبر بھی لے جن کو وہ پیدا کر کے بھول گیا۔ دوستو ! برائے خدا یہ سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ عقائد ایسے ہیں جن کو انسانی فطرت قبول ۲۱) کر سکتی ہے یا کوئی کانشنس ان کو اپنے اندر جگہ دے سکتا ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کس قسم کی عقلمندی ہے کہ ایک طرف خدا کو تمام دنیا کا خدا مانا اور پھر اسی منہ سے یہ بھی کہنا کہ وہ تمام دنیا کی ربوبیت کرنے سے دستکش ہے۔ اور صرف ایک خاص قوم اور ایک خاص ملک پر اس کی نظر رحم ہے۔ عقلمندو! خود انصاف کرو کہ کیا خدا کے جسمانی قانون قدرت میں اس کی کوئی شہادت ملتی ہے پھر اس کا روحانی قانون کیوں ایسی طرفداری پر مبنی ہے۔