نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 615 of 822

نزول المسیح — Page 615

۲۳۳ روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۶۱۱ نزول المسيح نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۱۴ پیشگوئی نمبر ۱۱۵ زنده گواه رویت ہوا۔ ان کید کن عظیم یعنی اے عور تو تمہارے فریب بہت بڑے ہیں اور اس حالت میں ہم ان کو خط کا مضمون بھی نہیں سنا سکتے تھے اس مصیبت کو سن کر ان کی جان کا اندیشہ تھا اس کے ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ یہ ایک خلاف واقعہ بہانہ بنایا گیا ہے ۔ تب میں نے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کے آگے جو اس وقت قادیان میں موجود تھے یہ واقعہ بیان کیا اور ساتھ ہی پوشیدہ طور پر شیخ حامد علی کو جو میرا نو کر تھا پٹیالہ روانہ کیا۔ جس نے واپس آکر بیان کیا کہ اسحاق اور اس کی والدہ ہر دو زندہ موجود ہیں اور چند روز کی بیماری کی گھبراہٹ اور اشتیاق ملاقات کے سبب یہ خلاف واقعہ خط لکھا کر بھیجا گیا تھا یے ایک دفعہ ہمارے ایک مخلص دوست سیٹھ عبدالرحمن صاحب تاجر مدراس کسی اپنی تشویش میں دعا کے خواستگار ہوئے جب دعا کی گئی تو الہام ہوا۔ ” قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے۔ بنا بنایا تو رو دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے۔“ یہ ایک بشارت ان کا غم دور کرنے کے بارے میں تھی۔ چنانچہ چند ہفتہ کے بعد ہی خدا تعالی نے ان کو اس پیش آمدہ غم سے رہائی بخشی ۔ پھر ایک مدت کے بعد اس شعر کے دوسرے مصرع کے مطابق ایک اور سخت ابتلا پیش آیا جس سے امید ہے کہ کسی وقت خدار ہائی دے گا جس طرح چاہے گا ۔ ہے تاریخ ظہور پیشگوئی 113% 1 اس نشان کے گواہ مولوی عبد الکریم صاحب ۔ شیخ حامد علی ۔ میر محمداسماعیل صاحب۔ ان کی والد ہ و دیگر کئی مرد اور عورتیں ۔ اس نشان کے گواہ خود سیٹھ صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی نور الدین صاحب مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب و دیگر بہت سے احباب ہیں۔