نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 616 of 822

نزول المسیح — Page 616

روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۶۱۲ نزول المسيح نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں پیشگوئی نمبر ۱۱۶ پیشگوئی نمبر ۱۱۷۔ VVIS میاں عبد اللہ سنوری جو علاقہ پٹیالہ میں پٹواری ہیں ایک مرتبہ ان کو ایک کام پیش آیا جس کے ہونے کے لئے انہوں نے ہر طرح سے کوشش کی۔ اور بعض وجوہ سے ان کو اس کام کے ہو جانے کی امید بھی ہو گئی تھی پھر انہوں نے دعا کے لئے ہماری طرف التجا کی۔ ہم نے جب دعا کی تو بلا توقف الہام ہوا ” اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔ تب میں نے ان کو کہہ دیا کہ یہ کام ہرگز نہیں ہو گا اور وہ الہام سنا دیا اور آخر کار ایسا ظہور میں آیا اور کچھ ایسے موانع پیش آئے کہ وہ کام ہوتا ہوتا رہ گیا ہے تاریخ ظہور پیشگوئی ایک دفعہ ہمیں اتفاقاً پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل فقر اور تو کل پر کبھی کبھی ایسی حالت گذرتی ہے اس وقت ہمارے ے پاس کچھ نہ تھا سو جب م صبح کے وقت سیر کے واسطے گئے تو اس کے ضرورت کے خیال نے ہم کو یہ جوش دیا کہ اس جنگل میں دعا کریں پس ہم نے ایک پوشیدہ جگہ میں جا کر اس نہر کے کنارہ پر دعا کی جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف واقع ہے جب ہم دعا کر چکے تو دعا کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے۔ دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں ۔ تب ہم خوش ہو کر قادیان کی طرف واپس آئے اور بازار کا رخ کیا تا کہ ڈاکخانہ سے دریافت کریں کہ آج ہمارے نام کچھ رو پیدا آیا ہے یا نہیں۔ چنانچہ ہمیں ایک محط ملا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپیہ لدھیانہ سے کسی نے روانہ کئے ہیں اور غالبا وہ رو پیداسی دن یا دوسرے دن ہمیں مل گیا ہے لے اس نشان کے گواہ شیخ حامد علی اور عبد اللہ سنوری ہیں ۔ اس نشان کے گواہ شیخ حامد علی صاحب ہیں۔