نزول المسیح — Page 613
۵۲۳۱ روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۶۰۹ نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں پیشگوئی نمبر ۱۱۲ تخمينا اء پیشگوئی نمبر ۱۱۳ زنده گواه نزول المسيح ایک دفعہ الہام ہوا بے ہوشی پھر غشی پھر موت تفہیم ہوئی کہ ہمارے بڑے مخلص مریدوں میں سے کسی کو ایسا واقعہ پیش آئے گا یعنی پہلے بے ہوشی ہوگی پھر غشی طاری ہوگی پھر مر جائے گا۔ یہ الہام یہاں رہنے والے احباب کو سنایا گیا اور خطوط کے ذریعہ سے باہر بھی لکھا گیا تھا آخر ایک دو ہفتہ کے اندر ہمارے مخلص مرید ڈاکٹر بوڑے خان صاحب اسٹنٹ سرجن قصور عین الہام کے الفاظ کے مطابق ایک دفعہ بے ہوش ہو کر اور پھر نفش میں پڑ کر فورا فوت ہو گئے اور ان کی وفات کا تار آیا ۔ لے ایک دفعہ ہمیں لدھیانہ سے پٹیالہ جانے کا اتفاق ہوا روانہ ہونے سے پہلے الہام ہوا کہ اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا اور کچھ ہم نم پیش آئے گا اس پیشگوئی کی خبر ہم نے اپنے ہمراہیوں کو دے دی چنانچہ جب کہ ہم پٹیالہ سے واپس آنے لگے تو عصر کا وقت تھا ایک جگہ ہم نے نماز پڑھنے کے لئے اپنا چوغہ اتار کر سید محمد حسن خان صاحب وزیر ریاست کے ایک نوکر کو دیا تا کہ وضو کریں پھر جب نماز سے فارغ ہو کر ٹکٹ لینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ جس رومال میں روپے باندھے ہوئے تھے وہ رومال گر گیا ہے تب ہمیں وہ الہام یاد آیا کہ اس نقصان کا ہونا ضروری تھا پھر جب ہم گاڑی پر سوار ہوئے تو راستہ تاریخ ظہور پیشگوئی تخمينا ١٨٩٨ء میں ایک اسٹیشن دو راہ پر ہمارے ایک رفیق کو کسی مسافر انگریز نے لے اس نشان کے گواہ بہت آدمی یہاں کے اور دیگر مقامات کے ہیں مثلاً مولوی عبد الکریم صاحب۔ مولوی نورالدین صاحب ۔ مفتی محمد صادق صاحب ۔ مولوی محمدعلی صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب۔