نزول المسیح — Page 606
روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۶۰۲ نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اس وجی نے مفصلہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکی ہیں پیشگوئی نمبر ۱۰۱ ج سے دو برس پہلے جب بالمقابل تفسیر نویسی میں مخالف مولوی عاجز آگئے اور مہر علی شاہ گولڑی نے کئی طرح کی قابل شرم کارروائیاں کیں تو اللہ تعالیٰ نے نزول المسيح تاریخ ظہور پیشگوئی آج سے دو برس پہلے اس عاجز کو یک طرفہ طورپر تفسیر القرآن کا معجزہ عطافرمایا در رشت روز کے عرصہ میں رسالہ اعجاز اسیح لکھا گیا۔ اس عرصہ میں طرح طرح کی نہ رکاوٹیں پیش آئیں اور بہت سا وقت بیماری میں گذرا۔ اس نشان سے زیادہ تر ہمارے قادیان میں رہنے والے احباب حصہ لے گئے کیونکہ وہ ہماری روز مرہ حالت سے واقف تھے۔ حاصل کلام انہیں دنوں میں اس رسالہ کے متعلق یہ الہام ہوا کہ منعه مانع من السماء یعنی روک دیا اس کو روکنے والے نے آسمان سے ۔ سو یہ الہام اس صفائی سے پورا ہوا ہے کہ اب تک میاں مہر علی اس کا جواب نہیں دے سکا اور نہ ان کا کوئی حامی جواب دینے پر قادر ہوسکا۔ اگر کارروائی کی تو یہ کی کہ صرف اردو میں ایک کتاب لکھی مگر آخر تحریری ثبوت سے ثابت ہوا کہ وہ بھی اپنی ذاتی لیاقت سے نہیں بلکہ مولوی محمد حسن متوفی کے نوٹوں کا بعینہا سرقہ تھا یہاں تک کہ اس نادان نے اس کی قابل شرم غلطیوں کو بھی صحیح سمجھ لیا اور اس مال مسروقہ اور مجموعہ اغلاط کا نام سیف چشتیائی رکھا۔ وہ ایسی سیف تھی جو انہیں پر چل گئی لے مر گیا بد بخت اپنے وار سے کٹ گیا سرا اپنی ہی تلوار سے کھل گئی ساری حقیقت سیف کی کم کرواب ناز اس مُردار سے ے اس نشان کا گواہ اول تو خود کتاب اعجاز لمسیح ہے اور بہت سے مخلص جو اس جگہ موجود تھے۔ مثلاً مولوی نورالدین صاحب مولوی عبدالکریم صاحب۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب۔ حکیم فضل دین صاحب۔ پیر منظور محمد صاحب۔ پیر سراج الحق صاحب۔ ۲۲۴