نزول المسیح — Page 579
روحانی خزائن جلد ۱۸ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بلائیں جو نیا پر ظاہر ہو چکیں بقیہ پیشگوئی نمبر ۶۰ کی مانند آہستہ حرکت کرتی ہوئی میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور جب قریب پہنچی تو میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا تھا۔ پھر الہام ہوا مـا هـذا الا تهديد الحکام یعنی یہ ایک مقدمہ ہوگا اور صرف حکام کی باز پرس تک پہنچ کر پھر نا بود ہو جائے گا اور بعد اس کے الہام ہوا انى مع الافواج اتیک بغتة ياتيك نصرتي إبراء أنّي انا الرحمن ذو المجد والغالی ۔ یعنی میں اپنی فوجوں ( یعنی ملائکہ ) کے ساتھ ناگہانی طور پر تیرے پاس آؤں گا اور اس مقدمہ میں میری مدد تجھے پہنچے گی۔ میں انجام کار تجھے بری کروں گا اور بے قصور ٹھہراؤں گا۔ میں ہی وہ رحمان ہوں جو بزرگی اور بلندی سے مخصوص ہے۔ اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا بلجت آیاتی یعنی میرے نشان ظاہر ہوں گے اور ان کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوں گے اور پھر الہام ہوا لواء فتح یعنی فتح کا جھنڈا۔ پھر الہام ہوا انما امرنا اذا اردنا شيئا ان نقول له كن فيكون ۔ اس پیشگوئی سے قبل از وقت پانسو آدمیوں کو خبر دی گئی تھی کہ ایسا ابتلا آنے والا ہے مگر آخر بریت ہوگی اور خدا تعالیٰ کا فضل ہوگا چنانچہ میرے رسالہ کتاب البریت میں یہ تمام الہامات درج تاریخ ظہور پیشگوئی ہیں جو قبل از وقت دوستوں کو سنائے گئے اور پھر انہیں کے لئے مفتی محمد صادق صاحب۔ حکیم فضل الدین صاحب۔ خواجہ کمال الدین صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب ۔ حافظ عبدالعلی صاحب بی اے۔ میر ناصر نواب صاحب منشی تاجدین صاحب ۔ حکیم فضل الہی صاحب۔ خلیفہ رجب الدین صاحب۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ برادرمرزا ایوب بیگ صاحب - منشی تاج الدین صاحب کلرک و دیگر جماعت لاہور ۔ حکیم حسام الدین صاحب