نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 575 of 822

نزول المسیح — Page 575

۱۹۳ روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۵۷۱ نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بلائیں جو نیا پر ظاہر ہو چکیں بقیہ پیشگوئی نمبر ۵۲ پیشگوئی نمبر ۵۳ ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء پیشگوئی نمبر ۵۴ زندہ گواہ رویت کے ١٩٠١ء نزول المسيح جس کی اشاعت پر عبدالحق غزنوی نے کچھ اعتراض کئے تو دوبارہ کتاب ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ پر اس بات کو بڑے زور سے شائع کیا گیا کہ یہ پیشگوئی جب تک پوری ہو ضرور ہے کہ اس وقت تک عبدالحق غزنوی زندور ہے چنانچہ چوتھا لڑکا بھی جون ۱۸۹۹ ء کو پیشگوئی کے مطابق پیدا ہوا جس کا نام مبارک احمد ہے۔ والحمد | اللہ علی ذالک یہ پیشگوئی کس قد رخدا کے ہاتھ سے خصوصیت رکھتی ہے کہ ایک کے تولد کو ایک سن رسیدہ آدمی کے زندہ ہونے کے ایام سے وابستہ کیا اور ایسا ہی ظہور میں آیا جیسا کہ ایک لڑکے کی پیدائش کو پھوڑوں کے ساتھ منسوب کیا اور ایسا ہی ظہور میں آیا۔ جب میری پیشگوئی کے مطابق لیکھرام کے قتل ہو جانے پر آریوں میں میری نسبت بہت شور مچا اور میرے قتل یا گرفتار ہونے کیلئے سازشیں کیں چنانچہ بعض اخبار والوں نے ان باتوں کو اپنی اخباروں میں بھی درج کیا تو اس وقت اللہ تعالی کی طرف سے مجھے الہام ہوا۔ سلامت بر تو اے مرد سلامت۔ چنانچہ یہ الہام بذریعہ اشتہار کے شائع کیا گیا اور اس وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے مجھے مخالفین کے مکر وفریب اور منصوبوں سے محفوظ رکھا۔ کتاب اعجاز مسیح کے بارے میں یہ الہام ہوا تھا کہ من قسام للجواب وتنمر تاریخ ظہور پیشگوئی یہ پیشگوئی اب تک ہر روز ظہور میں آ رہی ہے فسوف يرى انه تندم و تذمر“ یعنی جو شخص غصہ سے بھر کر اس کتاب کا جواب پیشگوئی نمبر ۵۲ ضمیمہ انجام آتھم میں شائع ہو کر لاکھوں آدمیوں میں مشہور ہو چکی تھی ۔ باقی اس صفحہ کی پیشگوئیوں کے گواہ ہماری جماعت کے اور بہت آدمی ہیں۔ مثلاً صاحبزادہ سراج الحق صاحب مولوی حکیم نور الدین صاحب وغیرہ وغیرہ۔