نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 576 of 822

نزول المسیح — Page 576

روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان نمبر شمار پیشگوئی پیشگوئی نمبر ۵۵ ۲۰ فروری ۱۹۰۲ء پیشگوئی نمبر ۵۶ نمبر ۵۵ و ۵۶ زنده گواه رویت ا حالته هيه ۵۷۲ جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں نزول المسيح لکھنے کے لئے طیار ہو گا وہ عنقریب دیکھ لے گا کہ وہ نادم ہوا اور حسرت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہوا۔ چنانچہ محمد حسن فیضی ساکن موضع ھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم مدرس مدرسه نعمانیہ واقعہ شاہی مسجد لاہور نے عوام میں شائع کیا کہ میں اس کتاب کا جواب لکھتا ہوں اور ایسی لاف مارنے کے بعد جب اس نے جواب کے لئے نوٹ تیار کرنے شروع کئے اور ہماری کتاب کے اندر بعض صداقتوں پر جو ہم نے لکھی تھیں لعنة اللہ علی الکاذبین لکھا تو جلد ہلاک ہو گیا۔ دیکھو مجھ پر عنت بھیج کر ایک ہفتہ کے اندر ہی آپ لعنتی موت کے نیچے آ گیا ۔ کیا بی نشان الہی نہیں۔ پیر مہر علیشاہ گولڑی نے جب اس کتاب اعجاز مسیح کا بہت عرصہ کے بعد جواب اردو میں لکھا تو اس بات کے ثابت ہو جانے سے کہ میداردو عبارت بھی لفظ بہ لفظ مولوی محمد حسن بھینی کی کتاب کا سرقہ ہے مہر علی شاہ کی بڑی ذلت ہوئی اور مذکورہ بالا الہام اس کے حق میں بھی پورا ہوا۔ تاریخ ظہور پیشگوئی ١٩٠٢ء یہ پیشگوئی ہر وقت ظہور میں آ رہی ہے صد یا مخالف مولویوں کو مباہلہ کے لئے بلایا گیا تھا جن میں سے عبد الحق غزنوی میدان میں نکلا اور مباہلہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت تو صرف چند آدمی ہمارے ساتھ تھے اور اب ایک لاکھ سے بھی کچھ زیادہ ہیں اور دن بدن ترقی کر رہے ہیں اور اس کے مقابل جا کر دیکھنا چاہئے کہ عبدالحق کے ساتھ کتنے ساتھی ہیں اور اس کی کیا عزت ہے کیا یہ خدا کا نشان نہیں۔ ان پیشگوئیوں کے گواہ ہزاروں ہزار آدمی ہیں ۔ مثلا شیخ رحمت اللہ صاحب۔ منشی ظفر احمد صاحب۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی شیخ نور احمد صاحب ایڈیٹر ریاض ہند امر تسر ۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ حکیم فضل الدین صاحب بھیروی۔سید حامد شاہ صاحب وغیرہ۔ ۱۹۴