نزول المسیح — Page 567
۱۸۵ روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۵۶۳ نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو نیا پر ظاہر ہو چکیں رویت نمبر ۴۳ بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ کیا گیا تھا اندرمن مراد آبادی اور لیکھرام پیشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہش مند ہوں تو ان کی قضا و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کر دو میری طرف سے اجازت ہے سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ عجل جسد له خوار۔ له نصب و عذاب یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بد زبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضرور اس کو مل رہے گا اور اس کے بعد آج جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ ء روز دوشنبہ ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بد زبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سواب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی نزول المسيح تاریخ ظہور پیشگوئی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب پروفیسر مڈیکل کالج لاہور ۔ منشی نواب خان صاحب تحصیلدار گوجرات۔ چوہدری رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر انبالہ۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسٹنٹ سرجن رڑ کی۔