نزول المسیح — Page 561
۱۸۰ روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ ۵۵۷ نزول المسيح تاریخ ظہور پیشگوئی نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں اور سچائی میں کچھ ایسی کشش ہوتی ہے کہ وہ آپ قبول کر لیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ زمانہ صد ہا ایسی نئی باتوں کو قبول کرتا جاتا ہے جولوگوں کے باپ دادوں نے قبول نہیں کی تھیں اگر زمانہ صداقتوں کا پیاسا نہیں تو پھر کیوں ایک عظیم الشان انقلاب اس میں شروع ہے زمانہ بے شک حقیقی صداقتوں کا دوست ہے نہ دشمن اور یہ کہنا کہ زمانہ عقلمند ہے اور سیدھے سادھے لوگوں کا وقت گذر گیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں زمانہ کی مذمت ہے گویا یہ زمانہ ایک ایسا بد زمانہ ہے کہ سچائی کو واقعی طور پر سچائی پا کر پھر اس کو قبول نہیں کرتا لیکن میں ہر گز قبول نہیں کروں گا کہ فی الواقع ایسا ہی ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ زیادہ تر میری طرف رجوع کرنے والے اور مجھ سے فائدہ اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو نو تعلیم یافتہ ہیں جو بعض ان میں سے بی اے اور ایم اے تک پہنچے ہوئے ہیں اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ یہ نو تعلیم یافتہ لوگوں کا گروہ صداقتوں کو بڑے شوق سے قبول کرتا جاتا ہے اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ ایک نو مسلم اور تعلیم یافتہ یوریشین انگریزوں کا گروہ جن کی سکونت مدراس کے احاطہ میں ہے ہماری جماعت میں شامل اور تمام صداقتوں پر یقین رکھتے ہیں ۔ اب میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے وہ تمام باتیں لکھ دی ہیں جو ایک خدا ترس آدمی کے سمجھنے کے لئے کافی ہیں ۔ آریوں کا اختیار ہے کہ میرے اس مضمون پر بھی اپنی طرف سے جس طرح چاہیں حاشیے چڑھا دیں مجھے اس بات پر کچھ بھی نظر نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس وقت اس پیشگوئی کی تعریف کرنا یا مذمت کرنا دونوں برابر ہیں اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ اسی کی طرف سے ہے تو ضرور ہیبت ناک زنده گواه رویت خلیفہ نور الدین صاحب تاجر کتب جموں۔ منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ ۔ رحمت اللہ صاحب بمبئی ہوس لاہور ۔ منشی تاج دین صاحب لاہور۔