نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 511 of 822

نزول المسیح — Page 511

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۰۷ نزول المسيح تاریخ بیان جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت تاریخ ظہور نمبر شمار پیشگوئی بقیہ پیشگوئی نمبرے بقیہ زندہ گواہ رویت متعلق نمبرے پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکی ہیں انوکھی بات ہے قدیم سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کوئی خارق عادت امر نہیں ۔ پس خدا تعالیٰ نے اس الہام میں وہی آیت پیش کر کے یہ اشارہ کیا ہے کہ ان لوگوں کو بھی خسوف کا نشان دکھلایا جاوے گا اور منکر لوگ وہی کہیں گے جو ابو جہل وغیرہ نے کہا تھا یعنی اس طرح پر قدیم سے خسوف کسوف ہوتا آیا ہے خارق عادت ہونا چاہئے تھا تا ہم مانتے۔ پس دیکھو یہ پیشگوئی کیسی عظیم الشان ہے جو خسوف کسوف سے بارہ برس پہلے لکھی گئی ۔ پیشگوئی کسوف ہو جائیگا ۔ اب ظاہر ہے کہ ہمیشہ رمضان میں خسوف کسوف نہیں ہوتا اگر ہوتا ہوگا تو صد با برس کے بعد اور پھر یہ کہ خسوف بھی انہیں تاریخوں میں ہو یہ خصوصیت بھی صد ہا سال کو ہی چاہتی ہے۔ اب حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک مہدی معہود ظاہر نہ ہو یہ خصوصیتیں کسی زمانہ میں کسی کا ذب مدعی کے وقت میں جمع نہیں ہوں گی صرف مہدی کے وقت میں جمع ہوں گی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا تو اب ظاہر ہے کہ مہدی معہود کی علامت کے لئے اس قدر کافی تھا کہ اس کے ابتدائی زمانہ میں رمضان میں ان تاریخوں میں خسوف کسوف ہوگا قانون قدرت کو توڑنے کی کچھ ضرورت نہ تھی۔ رہا یہ امر کہ دار قطنی کی حدیث ضعیف ہے۔ اگر ہم فرض کر لیں تو پھر کتاب اکمال الدین میں بھی تو یہی حدیث ہے ماسوا اس کے اصل بات تو یہ ہے کہ محدثین کی نہ تو تصدیق یقینی ہے اور نہ تکذیب۔ اس لئے خدا نے اس حدیث کی تصدیق خود کر دی اب کسی محدث کی مجال ہے کہ اس کی تکذیب کرے۔ پیشگوئی تو انجیل اور تورات کی بھی ماننی پڑے گی اگر وہ صفائی سے پوری ہو جاوے گو وہ کتابیں محرف مبدل ہیں بلکہ اگر سکھوں کے گرنتھے میں بھی کوئی پیشگوئی ہو جو بے حد رطب و یابس کا ذخیرہ ہے اور وہ پیشگوئی پوری ہو جائے تب بھی ماننی پڑے گی۔ کیا انسان کی تنقید خدا کی تنقید سے بہتر ہے۔