نزول المسیح — Page 503
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۹۹ نزول المسيح تاریخ بیان جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت تاریخ ظہور ۱۲۱ دی نمبر شمار پیشگوئی بقیہ مضمون پیشگوئی نمبر ۲ زندہ گواہ رویت کے پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں تو اس وقت سات آدمی بھی میرے ساتھ تھے مگر اس کے بعد ان دنوں میں ہزار ہا انسانوں نے بیعت کی خاص کر طاعون کے دنوں میں جس قدر جوق در جوق بیعت میں داخل ہوئے اس کا تصور خدا کی قدرت کا ایک نظارہ ہے۔ گویا طاعون دوسروں کو کھانے کے لئے اور ہمارے بڑھانے کے لئے آئی۔ ابھی معلوم نہیں کہ طاعون کی برکت سے کیا کچھ ترقی ہوگی۔ اسی برس میں تمام بیعت کرنے والوں نے اپنے ذمہ لے لیا کہ کچھ نہ کچھ ماہانہ اس سلسلہ کی مدد میں نذر کیا کریں سو اس ایک ہی برس میں ہزار ہا روپیہ کی آمدن ہوئی اور ہزار ہا لوگ بیعت میں داخل ہوئے اور داخل ہوتے ہیں اور وہ الہام که يأتيك من كل فج عميق و يأتون من كل فج عمیق ۔ عین طاعون کے دنوں میں پورا ہوا۔ اگر کوئی شخص براہین احمدیہ کو ہاتھ میں پکڑے اور میری پہلی حالت غربت اور تنہائی کو جو براہین احمدیہ کے زمانہ میں تھی قادیان میں آکر تمام ہندو مسلمانوں سے دریافت کرے یا گورنمنٹ انگریزی کے کاغذات میں دیکھے کہ کب سے گورنمنٹ نے میرے سلسلہ کو ایک جماعت عظیم قرار دیا ہے تو بلا شبہ وہ یقینی اور قطعی طور پر سمجھ لے گا کہ اس قد ر خدا کی طرف سے حسب منشاء پیشگوئی کے نصرت ہونا اور ستر ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کا بیعت میں داخل ہونا با وجود تمام مولویوں کے شور پیشگوئی اور وہ معزز ا حباب جو بچشم خود دیکھ رہے ہیں کہ کیونکر اس پرانے زمانہ کی پیشگوئی بڑے زور وشور سے ان دنوں میں پوری ہورہی ہے ان احباب کے بطور گواہان رویت ذیل میں چند نام لکھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی