نزول المسیح — Page 504
روحانی خزائن جلد ۱۸ نزول المسيح تاریخ بیان جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت تاریخ ظہور نمبر شمار پیشگوئی زندہ گواہ رویت کے پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں و فریاد کرنے کے بے شک ایک معجزہ ہے ورنہ خدا قادر تھا کہ اس سلسلہ کو ترقی سے روک دیتا اور مولویوں کے منصوبوں کو پورا کر دیتایا مجھے ہلاک کر دیتا اور خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ یأتیک من کل فج عميق و يأتون من كل فج عمیق ۔ اس طرح پر بھی ہر ایک پر ثابت ہو سکتا ہے کہ بیس برس کے بعد ان دنوں میں پنجاب اور ہندوستان کے شہروں میں سے کوئی شہر خالی نہیں رہا جس کے باشندوں میں سے کوئی نہ کوئی قادیان میں نہیں آیا اور نہ کوئی ایسی طرف ہے جس سے مالی مدد نہ آئی۔ اب سوچ لو کہ کیا اس قدر دور در از عرصہ کے بعد غیب کی باتیں پورا ہونا کیا بجز خدا کی وحی کے کسی اور کے کلام میں یہ طاقت ہے اور اگر انسان ایسا کر سکتا ہے تو نظیر کے طور پر پیش کرو کہ کس نے میری طرح گمنامی کی حیثیت میں ہو کر ظہور پیشگوئی کے دنوں سے ہیں برس پہلے بذریعہ تحریر تمام دنیا میں شائع کیا کہ ایک دن وہ آنے والا ہے کہ میری یہ حالت گمنامی جاتی رہے گی اور ہزار ہا تحائف میرے پاس آئیں گے اور ہزار ہا لوگ دور دراز ملکوں کا سفر کر کے میرے ملنے کے لئے آئیں گے میں جانتا ہوں کہ ایسی نظیر پیش کرنے پر ہرگز انسان قادر نہیں ۔ پیشگوئی مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ۔ مولوی محمد علی ایم اے۔ نواب محمد علی خان صاحب مالیر کوٹلہ ۔ خواجہ کمال الدین صاحب بی اے پلیڈر ۔ میر ناصر نواب صاحب دہلوی۔ مولوی محمد احسن صاحب امروہی مرزا خدا بخش صاحب جھنگ ۔ سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراس ۔ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹ چھاؤنی ۔ شیخ رحمت اللہ صاحب سوداگر بمبئی ہؤس لاہور ۔ خلیفہ نورالدین صاحب جموں وغیرہ گواہان جو دس ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔