نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 494 of 822

نزول المسیح — Page 494

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۹۰ نزول المسيح قائم ہونا اس خالق کی واقعی ہستی پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی اسی لئے انبیاء اور آسمانی نشانوں کی حاجت پڑی کیونکہ دلائل عقلیہ صرف اس حد تک خدا تعالیٰ کی نسبت علم بخشتے ہیں کہ ان مصنوعات پر نظر کر کے جن میں ایک ابلغ اور محکم ترکیب پائی جاتی ہے یہ ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ ان کا ایک صانع ہونا چاہئے لیکن یہ دلائل یہ ثابت نہیں کرتیں کہ وہ صانع فی الواقع ہے بھی۔ اور ہے اور ہونا چاہئے میں ایک فرق ہے جو اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح نہیں کہہ سکتے کہ پہلی کتابیں اور پہلے مجزات خدا تعالی کی ہستی پر ایک قطعی دلیل ہے کیونکہ اس وقت نہ وہ معجزات بدیہی طور پر مشاہدات میں سے ہیں اور نہ اس وقت وہ کلام نازل ہو رہا ہے۔ ہاں قرآن شریف معجزہ ہے مگر وہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک ایسا شخص ہو کہ اس معجزہ کے جو ہر ظاہر کرے اور وہ وہی ہوگا جو بذریعہ الہامی کلام کے پاک کیا جائے گا۔ اب جب کہ انسانی فطرت اور انسانی کانشنس اور انسانی روح شکوک و شبہات کی موت سے مرنا پسند نہیں کرتی اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ایک کھلے کھلے یقین کی پیاسی ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ جس قادر اور حکیم نے انسان کو یقین حاصل کرنے کی پیاس لگا دی ہے اس نے پہلے سے اس بات کا انتظام بھی کر لیا ہے کہ انسان یقین کے مرتبہ تک پہنچ جائے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا انتظام ہے جو یقین تک پہنچاتا ہے سو مجھے چھوڑ وتا میں صاف صاف کہہ دوں کہ وہ انتظام ابتدا دنیا سے آج تک ایک ہی چلا آیا ہے یعنی خدا کا قول جس کی تائید اور تصدیق اس کا خارق عادت فعل کرتا ہے اور یہ دھوکا مت کھاؤ کہ خدا کا کلام ایک مرتبہ یا چند مرتبہ جو گزشتہ زمانہ میں نازل ہو چکا ہے وہ یقین عطا کرنے کے لئے کافی ہے بار بار کی کیا ضرورت ہے اسی شبہ میں آریہ سماج والے گرفتار ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک وید خدا کا کلام ہے اور وہ ایک دفعہ اس موجودہ دور دنیا کے لئے نازل ہو چکا ہے پھر بار بار کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن وہ اور ایسا ہی ان کے سب ہم خیال دھوکا کھاتے ہیں اور اس دھوکا میں عیسائی بھی شریک ہیں جو کہتے ہیں کہ توریت نے تعلیم کے حق کو پورا کر دیا تھا پھر قرآن کی کیا ضرورت تھی۔ ان تمام تو ہمات کا جواب یہی ہے