نزول المسیح — Page 491
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۸۷ نزول المسيح باقی نہیں رہتا اور نہ وہ کہہ سکتا ہے کہ کل کا سورج تو یقینی تھا مگر آج کا شکی ۔ پس کیا تم اس الہام میں (۱۰۹) شک کر سکتے ہو کہ خدائی چہرہ کا نور اپنے اندر رکھتا ہے کیا خدا کی کلام کا طلوع سورج کے طلوع سے کچھ کمتر ہے کوئی چیز اپنی صفات ذاتیہ سے الگ نہیں ہو سکتی۔ پھر خدا کا کلام جو زندہ کلام ہے کیونکر الگ ہو سکے۔ پس کیا تم کہہ سکتے ہو کہ آفتاب وحی الہی اگر چہ پہلے زمانوں میں یقینی رنگ میں طلوع کرتا رہا ہے مگر اب وہ صفائی اس کو نصیب نہیں۔ گویا یقینی معرفت تک پہنچنے کا کوئی سامان آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے اور گویا خدا کی سلطنت اور حکومت اور فیض رسانی کچھ تھوڑی مدت تک رہ کر ختم ہو چکی ہے لیکن خدا کا کلام اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے کیونکہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے که اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ اس دعا میں اُس انعام کی امید دلائی گئی ہے جو پہلے نبیوں اور رسولوں کو دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ اُن تمام انعامات میں سے بزرگ تر انعام وحی یقینی کا انعام ہے کیونکہ گفتار الہی قائمقام دیدار الہی ہے کیونکہ اسی سے پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔ پس اگر کسی کو اس اُمت میں سے وحی یقینی نصیب ہی نہیں اور وہ اس بات پر جرات ہی نہیں کر سکتا کہ اپنی وی کو قطعی طور پر مثل انبیاءعلیہم السلام کے یقینی سمجھے اور نہ اس کی ایسی وحی ہو کہ انبیاء کی طرح اس کے ترک متابعت اور ترک عمل پر یقینی طور پر دنیا کا ضر متصور ہو سکے، تو ایسی دعا سکھلانا محض دھوکا ہوگا کیونکہ اگر خدا کو یہ منظور ہی نہیں کہ ہمو جب دعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ انبیاء علیہم السلام کے انعامات میں اس امت کو بھی شریک کرے تو اس نے کیوں یہ دعا سکھلائی اور ایک ناشدنی امر کیلئے دعا کرنے کی ترغیب کیوں دی۔ پس اگر یہ دعا سکھلا نا یقین اور معرفت کا انعام دینے کی نیت سے نہیں بلکہ محض لفظوں سے خوش کرنا ہے پس اسی سے فیصلہ ہو گیا کہ یہ امت اپنے نصیبوں میں سب اُمتوں سے گری ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ کی مرضی نہیں ہے کہ اس امت کو یقینی چشمہ کا پانی پلا کر نجات دے بلکہ وہ ان کو شکوک اور شبہات کے ورطہ میں چھوڑ کر ہلاک کرنا چاہتا ہے لیکن یاد الفاتحة: ٦،