نزول المسیح — Page 477
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۷۳ نزول المسيح وحشیانہ زندگی کے بال جو جرائم اور معاصی سے مراد ہے کالعدم ہو جاتے ہیں اور انسان (۹۵) مردوں سے بیزار ہو کر اس دلارام زندہ کا عاشق ہو جاتا ہے جس کو دنیا نہیں جانتی اور جیسا کہ تم دنیا کی چیزوں سے بے صبر ہو ویسا ہی وہ خدا کی دوری پر صبر نہیں کر سکتا غرض تمام برکات اور یقین کی کنجی وہ کلام قطعی اور یقینی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندہ پر نازل ہوتا ہے۔ جب خدائے ذوالجلال کسی اپنے بندہ کو اپنی طرف کھینچنا چاہتا ہے تو اپنا کلام اس پر نازل کرتا ہے اور اپنے مکالمات کا اس کو شرف بخشتا ہے اور اپنے خارق عادت نشانوں سے اُس کو تسلی دیتا ہے اور ہر ایک پہلو سے اس پر ثابت کر دیتا ہے کہ وہ اس کا کلام ہے تب وہ کلام قائم مقام دیدار کا ہو جاتا ہے اس روز انسان سمجھتا ہے کہ خدا ہے کیونکہ انا الموجود کی آواز سنتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی کلام سے پہلے اگر انسان کا خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان ہوتا ہے تو بس اس قدر کہ وہ مصنوعات پر نظر کر کے یہ خیال کر لیتا ہے کہ اس ترکیب محکم اہلغ کا کوئی صانع ہونا چاہئے لیکن یہ کہ در حقیقت وہ صانع موجود بھی ہے یہ مرتبہ ہرگز بجز مکالمات الہیہ کے حاصل نہیں ہو سکتا اور گندی زندگی جو تحت الثری کی طرف ہر لمحہ کھینچ رہی ہے وہ ہرگز دور نہیں ہوتی ۔ اسی جگہ سے عیسائیوں کے خیالات کا بھی باطل ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ خیال کرتے ہیں کہ ابن مریم کی خودکشی نے ان کو نجات دے دی ہے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ تنگ و تاریک دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں جو مجو بیت اور شکوک اور شبہات اور گناہ کا دوزخ ہے۔ پھر نجات کہاں ہے ۔ نجات کا سرچشمہ یقین سے شروع ہو جاتا ہے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا یقین دیا جائے کہ اس کا خدا در حقیقت موجود ہے جو مجرم اور سرکش کو بے گناہ نہیں چھوڑتا اور رجوع کرنے والے کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہی یقین تمام گناہوں کا علاج ہے بجز اس کے دنیا میں نہ کوئی کفارہ ہے نہ کوئی خون ہے جو گناہ سے بچاوے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہر ایک جگہ تمہیں یقین ہی ناکردنی باتوں سے روک دیتا ہے تم آگ میں ہاتھ نہیں ڈال سکتے کہ وہ مجھے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے بے سزا “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)