نزول المسیح — Page 472
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۶۸ نزول المسيح میں اکمل اور اتم طور پر یہ نمونہ دکھایا ان واقعات سے تعجب نہیں کرنا چاہئے بلکہ در حقیقت انسان کی نجات اسی پر موقوف ہے کہ یا تو وہ خود ایسا شخص ہو جو براہ راست خدا تعالیٰ سے شرف مکالمہ اور مخاطبت رکھتا ہو مگر ایسا مکالمہ مخاطبہ نہ ہو کہ جس میں قطعی فیصلہ نہ ہو کہ وہ رحمانی ہے یا شیطانی ہے اور یا وہ شخص نجات پاسکتا ہے جو ایسے شخص کا ہم صحبت اور اس کے دامن سے وابستہ ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ جس قدر دنیا میں گناہ پیدا ہوئے ہیں ان کی یہی وجہ ہے کہ جس قدر انسان کو دنیا کی لذات اور دنیا کی عزت اور دنیا کے مال و متاع پر یقین ہے یہ یقین آخرت پر نہیں ہے اور جیسا کہ وہ ایک ایسے صندوق پر تو کل کر سکتا ہے جو قیمتی جواہرات اور خالص سونے سے بھرا ہوا ہے اور اس کے قبضے میں ہے ایسا وہ خدا پر تو کل نہیں کر سکتا۔ اور جیسا کہ دنیا کی گورنمنٹ اور دنیا کے حکام سے لوگ ڈرتے ہیں اور مداہنہ سے زندگی بسر کرتے ہیں ایسا خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔ اس کا کیا سبب ہے؟ یہی سبب ہے کہ دنیا کے پیش افتادہ اسباب اور وسائل ان کی نظر میں ایسے یقینی ہیں کہ دینی عقائد ان کے آگے کچھ بھی چیز نہیں۔ اب اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ نجات بجر حق الیقین کے ممکن نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا لا یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اس سے بھی بدتر ۔ تو بغیر یقین کامل کے کیونکر نجات ہو اور اگر ایک مذہب کی پابندی سے نجات نہیں تو اس مذہب سے حاصل کیا۔ صحابہ رضی الله عنهم کے زمانہ میں تو یقین کے چشمے جاری تھے اور وہ خدائی نشانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے اور انہیں نشانوں کے ذریعہ سے خدا کی کلام پر انہیں یقین ہو گیا تھا اس لئے ان کی زندگی نہایت پاک ہو گئی تھی لیکن بعد میں جب وہ زمانہ جاتا رہا اور اس زمانہ پر صد ہا سال گذر گئے تو پھر ذریعہ یقین کا کون سا تھا۔ سچ ہے کہ قرآن شریف ان کے پاس تھا اور قرآن شریف اس ذوالفقار تلوار کی مانند ہے جس کے دو طرف دھاریں ہیں ایک طرف کی دھار مومنوں کی اندرونی غلاظت کو کاٹتی ہے اور دوسری طرف کی دھار دشمنوں کا کام تمام کرتی ہے مگر پھر بھی وہ تلوار اس کام کے لئے ایک بنی اسرائیل ۷۳