نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 822

نزول المسیح — Page 471

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۶۷ نزول المسيح حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ سوضرور ہے کہ یہ زمانہ گذر نہ جائے اور ہم اس ۸۹ دنیا سے کوچ نہ کریں جب تک خدا کے وہ تمام وعدے پورے نہ ہوں ۔ جو شخص تاریکی میں پڑا ہوا ہے اور اس سے بے خبر ہے کہ خدا کا یقینی اور قطعی کلام بھی اس کے بندوں پر نازل ہوا کرتا ہے وہ خدا کے وجود سے ہی بے خبر ہے لہذا وہ اپنی طرح تمام دنیا کو وساوس کے نیچے پامال دیکھتا ہے اور اس کا یہی عقیدہ ہوتا ہے کہ بجز وساوس اور اضغاث احلام اور حدیث النفس کے اور کچھ نہیں اور غایت کار وہ ظنی طور پر نہ یقینی اور قطعی طور پر الہام الہی کا خیال دل میں لاتا ہے مگر ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ جس دل پر در حقیقت آفتاب وحی الہی تجلی فرماتا ہے اس کے ساتھ فطن اور شک کی تاریکی ہر گز نہیں رہتی ۔ کیا خالص نور کے ساتھ ظلمت رہ سکتی ہے۔ پھر جس حالت میں موسیٰ کی ماں کو بھی یقینی الہام ہوا جس پر پورا یقین رکھ کر اس نے اپنے بچہ کومعرض ہلاکت میں ڈال دیا اور خدا تعالیٰ کے نزدیک بجرم اقدام قتل مجرم نہ ہوئی تو کیا یہ امت اسرائیل کے خاندان کی عورتوں سے بھی گئی گزری ہے اور پھر اسی طرح مریم کو بھی یقینی الہام ہوا جس پر بھروسہ کر کے اس نے قوم کی کچھ پرواہ نہیں کی تو حیف ہے اس امت مخذول پر جو ان عورتوں سے بھی کم تر ہے۔ پس اس صورت میں یہ امت خیر الامم کا ہے کو ہوئی بلکہ شر الامم اور اجهل الامم ہوئی۔ اسی طرح خضر جو نبی نہیں تھا اور اس کو علم لدنی دیا گیا تو کیا اگر اس کا الہام ظنی تھا یقینی نہیں تھا تو کیوں اس نے ایک ناحق بچہ کوقتل کر دیا۔ اور اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہ الہام کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نسل دینا چاہیے یقینی اور قطعی نہ تھا تو کیوں انہوں نے اس پر عمل کیا۔ پس اگر ایک شخص اپنی نابینائی سے میری وحی سے منکر ہے تا ہم اگر وہ مسلمان کہلاتا ہے اور پوشیدہ و ہر یہ نہیں تو اس کے ایمان میں یہ بات داخل ہونی چاہیے کہ یقینی قطعی مکالمہ الہیہ ہوسکتا ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کی وحی یقینی پہلی امتوں میں اکثر مردوں اور عورتوں کو ہوتی رہی ہے اور وہ نبی بھی نہ تھے اس امت میں بھی اس یقینی اور قطعی وحی کا وجود ضروری ہے تا یہ امت بجائے افضل الامم ہونے کے احقر الام نہ ٹھہر جائے۔ سوخدا نے آخری زمانہ