نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 470 of 822

نزول المسیح — Page 470

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۶۶ نزول المسيح ۸۸) مجھے ہر ایک ٹھوکر سے سنبھالا اور ہر ایک گرنے کی جگہ سے بچا لیا۔ وہ کلام ایک شمع کی طرح میرے آگے آگے چلا یہاں تک کہ میں منزل مقصود تک پہنچ گیا۔ اس سے زیادہ کوئی بد ذاتی نہیں ہوگی کہ میں یہ کہوں کہ وہ خدا کا کلام نہیں۔ میں اسی طرح اس کو خدا کا کلام جانتا ہوں جس طرح میں یقین رکھتا ہوں کہ میں زبان سے بولتا ہوں اور کانوں سے سنتا ہوں اور میں کیونکر اس سے انکار کروں اس نے تو مجھے خدا دکھلایا اور چشمہ شیریں کی طرح معارف کا پانی مجھے پلاتا رہا۔ اور ایک ٹھنڈی ہوا کی طرح ہر ایک جبس کے وقت میں مجھے راحت بخش ہوا۔ وہ ان زبانوں میں بھی مجھ پر نازل ہوا جن زبانوں کو میں نہیں جانتا تھا جیسا کہ زبان انگریزی اور سنسکرت اور عبرانی۔ اس نے بڑی بڑی پیشگوئیوں اور عظیم الشان نشانوں سے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کا کلام ہے اور اس نے حقائق و معارف کا ایک خزانہ میرے پر کھول دیا جس سے میں اور میری تمام قوم بے خبر تھی ۔ وہ کبھی کبھی زبان عربی یا انگریزی یا کسی دوسری زبان کے ان دقیق اور نا معلوم الفاظ میں میرے پر نازل ہوا جن سے میں بے خبر تھا۔ تو کیا با وجود ان روشن ثبوتوں کے کوئی شک کا مقام ہوسکتا ہے کیا یہ باتیں پھینک دینے کے لائق ہیں کہ ایک کلام جس نے معجزہ کی طاقت دکھلائی اور اپنی قومی کشش ہی ثابت کی اور غیب کے بیان کرنے میں وہ بخیل نہیں نکلا بلکہ ہزار ہا امور غیبیہ اس نے ظاہر کیے۔ اور ایک باطنی کنند سے مجھے اپنی طرف کھینچا اور ایک کمند دنیا کے سعید دلوں پر ڈالا اور میری طرف ان کو لایا اور ان کو آنکھیں دیں جن سے وہ دیکھنے لگے اور کان دیئے جن سے وہ سننے لگے اور صدق وثبات بخشا جس سے وہ اس راہ میں قربانی ہونے کے لئے موجود ہو گئے تو کیا یہ تمام کا روبار شیطانی یا وسوسہ نفسانی ہے۔ کیا شیطان خدا کے برابر ہو سکتا ہے تو پھر کیوں وہ تمہاری مدد نہیں کرتا۔ سنو وہ جس نے یہ کلام نازل کیا وہ کیا کہتا ہے اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی چیکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور بعض میرے معجزات کے ظہور کا باعث خود میرے دشمن ہو گئے کہ انہوں نے مجھ کو مقابل پر رکھ کر خود دعا کر دی کہ جو ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے جیسا کہ مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی اسماعیل علی گڑھی اور جیسا کہ جھوٹے پر لعنت کی دعا محمد حسن متوفی نے کی اور پھر بعد اس کے وہ سب کے سب مر گئے اور یقینا سمجھو کہ اگر ان میں سے ہزار مولوی بھی مجھے مقابل رکھ کر ایسی دعا کرتا کہ جو ہم میں سے جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے تو ضرور وہ تمام گروہ علما مر جاتا جیسا کہ یہ لوگ مر گئے کیا کسی مغرور مولوی کو اس معجزہ میں بھی شک ہے۔ منہ ☆