نزول المسیح — Page 456
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۵۲ نزول المسيح سمجھتے ہیں کہ گویا پیر صاحب فوت ہو گئے اور اب اُن کو مخاطب کرنا بھی اُن کو وہ عزت دینا ہے جس کے وہ ہر گز لائق نہیں ہیں لیکن ہم نے مناسب دیکھا کہ ایک شروع کئے ہوئے مضمون کو انجام دے دیں اور حاشیہ کے پڑھنے سے ناظرین کو بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ جس قدر پیر مہر علی نے اعجاز المسیح پر نکتہ چینی کی ہے یا جو سمس بازغہ پر نکتہ چینی ہے یہ اُس کی طرف سے نکتہ چینی نہیں ہے بلکہ اصل نکتہ چینی کرنے والا محمد حسن بھیں ہے اور جب وہ دونوں کتابوں پر نکتہ چینی کر چکا ایک غلطی ہو گئی کہ ایک خط گولڑی کو بھی لکھا کہ تم نے خاک لکھا کہ جو کچھ محمد حسن کے نوٹ تھے وہی درج کر دئے۔ اس واسطے گولڑی نے محمد حسن کے والد کو لکھا ہے کہ ان کو کتابیں مت دکھاؤ کیونکہ یہ شخص ہمارا مخالف ہے اب مشکل بنی کہ محمد حسن کا والد گولڑی کا مرید ہے اور اُس کے کہنے پر چلتا ہے۔ مجھ کو نہایت افسوس ہے کہ میں نے گولڑی کو کیوں خط لکھا جس کے سبب سے سب میرے دشمن بن گئے ۔ براہ عنایت خاکسار کو معاف فرمادیں۔ کیونکہ خالی میرا آنا مفت کا خرچ ہے اور کتا بیں وہ نہیں دیتے ۔ فقط ۔ خاکسار شہاب الدین از مقام بھیں تحصیل چکوال دوسرے خط کی نقل مکرمی و عظمی و مولائی جناب مولوی عبدالکریم صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته امابعد خاکسار خیریت سے ہے آپ کی خیریت مطلوب ۔ میں آنے سے کچھ انکار نہ کر تالا کن کتابیں نہیں دیتے جن پر نوٹ ہیں۔ یعنی نمس بازغہ اور اعجاز مسیح سیف چشتیائی میں جتنی سخت زبانی ہے اکثرمحمد حسن کی ہے۔ اسی وجہ سے اُس کی موت کا نمونہ ہوا۔ اب میرے خط لکھنے سے گولڑی خود اقراری ہے چنانچہ یہ کارڈ گولڑی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے جو اس نے مولوی