نزول المسیح — Page 455
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۵۱ نزول المسيح بقیہ حاشیہ بہت سہل ہو گئی دوسرے لوگوں کی عبارتیں چرالیس اور تفسیر کو لکھ مارا لیکن اول ہم اُن اشعار کے ۷۳ مقابل پر ان بزرگوں کی علمی طاقت کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر اس نمونہ میں پیر مہر علی صاحب نے اپنی کرامت دکھلا دی تو پھر یقین ہے کہ وہ تفسیر نویسی میں بھی گذشتہ بزدلی کو دور کر کے سیدھی نیت سے میرے مقابل پر آجائیں گے لیکن کل کے دن جبکہ ہمیں موضع بھنیں سے پیر مہرعلی کی اس کرتوت پر اطلاع ہوئی۔ جس کی تفصیل حاشیہ میں درج ہے تب سے ہم ایسا السلام عليكم ورحمة الله و بركاته۔ اما بعد ۔ آپ کا خط رجسٹری شدہ آیا۔ دل غمناک کو تازہ کیا۔ روئداد معلوم ہوئی ۔ حال یہ ہے کہ محمد حسن کا مسودہ علیحدہ تو خاکسار کو نہیں دکھایا گیا کیونکہ اُس کے مرنے کے بعد اس کی کتابیں اور سب کا غذات جمع کر کے مقفل کئے گئے ہیں بشمس بازغہ اور اعجاز اس پر جو مذکور نے نوٹ کئے تھے وہ دیکھتے ہیں اور وہی نوٹ گولڑی ظالم نے کتا ہیں منگوا کر درج کر دیئے ہیں اپنی لیاقت سے کچھ نہیں لکھا۔ اب محمد حسن کا والد وغیرہ میرے تو جانی دشمن بن گئے ہیں۔ کتا ہیں تو بجائے خود ایک ورقہ تک نہیں دکھاتے ۔ پہلے بھی دیکھنے کا ذریعہ یہ ہوا تھا کہ جب گوڑی نے کتابیں یعنی نفس بازغہ اور اعجاز اسیح محمد حسن کے والد سے منگوا ئیں اور فارغ ہو کر واپس روانہ کیں تو چونکہ وہ حامل کتب اجنبی تھا اس لئے بھول کر میرے پاس مسجد میں آیا اور کہنے لگا کہ مولوی محمد حسن کا گھر کدھر ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کام ۔ کہنے لگا کہ مہر علیشاہ نے مجھ کو کتا بیں دے کر روانہ کیا ہے کہ مولوی محمد حسن کے والد کو یہ کتابیں شمس بازغہ اور اعجاز اسیح دے آ ۔ پھر میں نے کتابیں لے کر دیکھیں تو ہر صفحہ ہر سطر پر نوٹ ہوئے ہوئے دیکھے۔ میرے پاس سیف چشتیائی بھی موجود تھی عبارت کو ملایا تو بعینہ وہ عبارت تھی۔ آپ کا حکم منظور لاکن محمد حسن کا والد کتا بیں نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ میرے رو برو بے شک دیکھ لونگر مہلت کے واسطے نہیں دیتا۔ خاکسار معذور ہے کیا کرے جلا دوسری مجھے سے پھر بعد اس کے محمد حسن کے بیٹے نے جو اصل وارث سے مبلغ ہے۔ روپے لے کر وہ دونوں کتابیں جن پر محمد حسن متوفی کے نوٹ درج ہیں میرے معتبر کو دے دیں اور اب وہ میرے پاس موجود ہیں جن سے پیر مہر علی کی چوری ایسی کھلتی ہے جیسا کہ کوئی چور میں نقب لگاتے وقت پکڑا جائے ۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ بیچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے انی مهین من اراد اهانتک۔ ۱۲ من المؤلف