نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 822

نزول المسیح — Page 452

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۴۸ نزول المسيح بقیہ حاشیہ (۷۰) مگر شرط یہ ہے کہ اُس تاریخ سے کہ یہ رسالہ شائع ہو ٹھیک ٹھیک عرصہ میں یوم تک اسی مقدار اور اس بلاغت فصاحت کے لحاظ سے اور انہیں مضامین کے مقابل پر اشعار بنا کر اور طبع کرا کر ملک میں شائع کر دیں ورنہ اخبار کے ذریعہ سے اُن کا عجز شائع کر دیا جائے گا۔ اور ہم دوبارہ اقرار کرتے ہیں کہ اگر ان اشعار میں تاریخ معینہ کے اندر وہ ہمارا مقابلہ کر سکیں گے۔ اور اہل علم کی شہادت سے اُن کے اشعار ہمارے اشعار کے ہم مرتبہ ہوں گے اور تعداد میں بھی برابر فقروں کا سرقہ میری طرف منسوب کرنے کے ساتھ ہی خود ایک پوری کتاب کا سارق ثابت ہو گیا۔ اگر اُس کا اعتراض صحیح تھا تو کیوں خدا تعالی نے اُس کو رسوا کیا اور جب لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ مہر علی نے ایک مردہ کا مضمون چرا کر کفن دزدوں کی طرح قابل شرم چوری کی ہے اور بعض اُس کے دوستوں نے اُس کی طرف خط لکھے کہ ایسا کرنا مناسب نہ تھا تو یہ جواب دیا کہ میں نے محمد حسن مردہ سے اجازت لے لی تھی صاف ظاہر ہے کہ اگر محمدحسن مردہ اجازت دیتا تو اپنی زندگی میں ہی دیتا مسودہ اس کے پاس بھیجتا نہ یہ کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی بیوہ کے پاس سے منگوایا جاتا اور پھر بہر حال یہ ذکر تو کرنا چاہیے تھا کہ میں بذات خود عر بیت اور علم ادب سے بے نصیب ہوں اور یہ مسودات محمد حسن مردہ کے مجھے ملے ہیں مگر کہاں ذکر کیا بلکہ بڑے فخر سے دعوی کیا کہ یہ کتاب میں نے آپ بنائی ہے۔ دیکھو اہل حق پر حملہ کرنے کا یہ اثر ہوتا ہے کہ مجھے چند فقرہ کا سارق قرار دینے سے ایک تمام و کمال کتاب کا خود چور ثابت ہو گیا اور نہ صرف چور بلکہ کذاب بھی کہ ایک گندہ جھوٹ اپنی کتاب میں شائع کیا اور کتاب میں لکھ مارا کہ یہ میری تالیف ہے حالانکہ یہ اُس کی تالیف نہیں ۔ کیوں پیر جی اب اجازت ہے کہ اس وقت ہم بھی کہہ دیں کہ لَعْنَةُ الله على الكاذبين۔ رہا محمد حسن پس چونکہ وہ مرچکا ہے اس لئے اُس کی نسبت لمبی بحث کی ضرورت نہیں وہ اپنی سزا کو پہنچ گیا۔ اُس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیر صاحب کے منہ میں رکھ دی۔ میں نے کتاب اعجاز لمسیح کے سر پر بطور پیشگوئی بیان کر دیا تھا کہ جوشخص اس