نزول المسیح — Page 451
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۴۷ نزول المسيح درخواست یہ ہے کہ ان اشعار کی برعایت تعداد و پابندی مضمون نظیر پیش کر کے پیر صاحب ۲۹ ) اپنی کرامت دکھلاویں۔ اور علی حائری صاحب امام حسین کی کرامت ۔ اگر ایسا کر دکھا ئیں اور جس قدر تعداد میں ہم نے یہ شعر لکھے ہیں اور جن مضامین کے متعلق یہ اشعار ہیں ۔ اگر ان دونوں شرطوں کو بلاغت فصاحت کے پیرایہ میں یہ دونوں بزرگ یا کوئی اُن میں سے پورا کر دکھا ئیں گے تو ہم قبول کر لیں گے کہ اس بارے میں ہمارا معجزہ کا دعوی باطل ہے۔ بقیہ حاشیہ گزارہ کے لئے اُس کتاب میں سے حصہ رکھ دیتا جس حالت میں محض لاف زنی کے طور پر اُس نے یہ مشہور کیا ہے کہ میں نے یہ کتاب مفت تقسیم کی ہے تو کس قدر ضروری تھا کہ وہ کتاب کے ابتدا میں لکھ دیتا کہ میں اپنا حق تو اس کتاب کے متعلق چھوڑتا ہوں لیکن چونکہ در اصل یہ کتاب محمد حسن کی تالیف ہے جس کو میں نے بطور سرقہ اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ اس لئے میں اُس کی بیوہ کے گزارہ کے لئے ہم فی جلد خریداروں سے مانگتا ہوں۔ تا وہ چکی پیسنے کی مصیبت سے بچے ۔ اور اگر وہ ایسا طریق اختیار کرتا اور فی جلد ۴ روصول کر کے مصیبت زدہ بیوہ کو دیتا تو اس روسیا ہی سے کسی قدر پیچ جاتا مگر ضرور تھا کہ وہ اس قابل شرم چوری کا ارتکاب کرتا تا خدا تعالی کا وہ کلام پورا ہو جاتا کہ جو آج سے کئی برس پہلے میرے پر نازل ہوا اور وہ یہ ہے انی مهین من اراد اهانتک یعنی میں اُس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔ اس شخص نے کتاب سیف چشتیائی میں میرے پر الزام سرقہ کا لگایا تھا اور سرقہ یہ کہ کتاب اعجاز مسیح کے تقریبا میں ہزار فقرہ میں سے دو چار فقرے ایسے ہیں جو عرب کی بعض مشہور مثالیں یا مقامات حریری وغیرہ کے چند جملے ہیں جو الہا می توارد سے لکھے گئے۔ اور اپنی کرتوت اس کی اب یہ ثابت ہوئی جو محمد حسن مردہ کا سارا مسودہ اپنے نام منسوب کر لیا اور اُس بدبخت کا ذکر تک نہ کیا۔ اب دیکھو یہ خدا تعالیٰ کا نشان ہے یا نہیں کہ دو چار