نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 822

نزول المسیح — Page 437

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۳۳ نزول المسيح حریری یا ہمدانی کے کسی فقرہ سے تو ار د تھا۔ افسوس کہ اُن کو اس اعتراض کے کرتے ہوئے ذرہ شرم نہیں (۵۵) آئی اور ذرہ خیال نہیں کیا کہ اگر ان قلیل اور دو چار فقروں کو تو ارد نہ سمجھا جائے جیسا کہ ادیبوں کے کلام میں ہوا کرتا ہے اور یہ خیال کیا جائے کہ یہ چند فقرے بطور اقتباس کے لکھے گئے تو اس میں کون سا اعتراض پیدا ہو سکتا ہے خود حریری کی کتاب میں بعض آیات قرآنی بطور اقتباس موجود ہیں ایسا ہی چند عبارات اور اشعار دوسروں کے بغیر تغییر تبدیل کے اس میں پائے جاتے ہیں اور بعض عبارتیں ابو الفضل بدیع الزمان کی اس میں بعینہ ملاتی ہیں تو کیا اب یہ رائے ظاہر کی جائے کہ مقامات حریری سب کی سب مسروقہ ہے بلکہ بعض نے تو ابو القاسم حریری پر یہاں تک بدظنی کی ہے کہ اس کی ساری کتاب ہی کسی غیر کی تالیف ٹھہرائی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ ایک دفعہ فن انشاء میں کامل سمجھ کر ایک امیر کے پاس پیش کیا گیا اور امتحانا حکم ہوا کہ ایک اظہار کو عربی فصیح بلیغ میں لکھے مگر وہ لکھ نہ سکا اور یہ امر اس کے لئے بڑی شرمندگی کا موجب ہوا مگر تاہم وہ ادباء میں بڑی عظمت کے ساتھ شمار کیا گیا اور اُس کی مقامات حریری بڑی عزت کے ساتھ دیکھی جاتی ہے حالانکہ وہ کسی دینی یا علمی خدمت کے لئے کام نہیں آسکتی کیونکہ حریری اس بات پر قادر نہیں ہو سکا کہ کسی بچے اور واقعی قصہ یا معارف اور حقائق کے اسرار کو بلیغ فصیح عبارت میں قلمبند کر کے یہ ثابت کرتا کہ وہ الفاظ کو معانی کا تابع کر سکتا ہے۔ بلکہ اُس نے اول سے آخر تک معانی کو الفاظ کا تابع کیا ہے جس سے ثابت ہوا کہ وہ ہرگز اس بات پر قادر نہ تھا کہ واقعہ صیحہ کا نقشہ عربی فصیح بالغ میں لکھ سکے لہذا ایسا شخص جس کو معانی سے غرض ہے اور معارف حقائق کا بیان کرنا اُس کا مقصد ہے وہ حریری کی جمع کردہ ہڈیوں سے کوئی مغز حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ اور بات ہے کہ کسی کے کلام کا اتفاقا خدا تعالیٰ کی طرف سے بعض فقرات میں کسی سے توارد ہو جائے کیونکہ بعض محاورات ادبیہ کا کوچہ ایسا تنگ ہے کہ یا تو اُس میں بعض ادباء کو بعض سے توارد ہوگا اور یا ایک شخص ایک ایسے محاورہ کو ترک کرے گا جو واجب الاستعمال ہے ظاہر ہے کہ جس مقام پر خصوصیات بلاغت کے لحاظ سے ایک جگہ پر مثلاً اقتحم کا لفظ اختیار کرنا ہے نہ اور کوئی لفظ تو اس لفظ پر تمام ادباء کا با الضرور توار د ہو جائے گا اور ہر ایک کے منہ سے یہی لفظ نکلے گا۔ ہاں ایک جاہل نجمی جو اسالیب بلاغت سے بے خبر اور فروق مفردات سے ناواقف ہے وہ اس کی جگہ پر کوئی اور لفظ بول جائے گا اور ادباء کے نزدیک